متکبر شخص اور غلام

ابن عوانہ ایک بہت ہی برا شخص تھا بڑا متکبر تھا کہتے ہیں کہ اس نے اپنے غلام کو کہا مجھے پانی پلاؤ۔ غلا م نے جوا با ہان کہا اس نے کہا ہاں تو وہی کہتا ہے جو نہیں پر بھی قادر ہوتا ہے۔ بس میں تجھے تھپڑ ماروں گا۔ اس نے اس کو تھپڑ رسید کردیا۔ اس نے ایک کسان کو طلب کیا اس کے ساتھ باتیں بھی کیں۔

پھر اسے حقیر جانتے ہوۓکلی کرنا شروع کر دیا تاکہ اس سے بات کرنے کی نجاست دور ہو جائے کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے خود کو ایسے مقام پر بٹھایا ہوا ہے کہ اگر وہاں سے گر گیا تو پاش پاش ہو جائے گا۔ حافظ نے کہا ہے کہ قریش سے بنی محروم اور بنو امیہ اور بعض دیگر عرب لوگ جیسے کہ بنو جعفر بن کلاب بنوزرارہ بن عدی کے بعض لوگ تکبر کرنے والے ہیں اور فارس کے سلطان تو دیگر عوام کو اپنا غلام گردانتے ہیں اور خود کو ان کا مالک جانتے ہیں۔ بنو عبدالدار کے ایک شخص سے کسی نے کہا تم خلیفہ کے پاس کیوں حاضر نہیں ہوتے۔ اس نے جواب دیا کہ مجھے یہ خدشہ ہے کہ میرے شرف کو برداشت نہ کر سکے گا اور کسی شخص نے حجاج بن ارطاۃ سے کہا تم جماعت کے ساتھ کیوں شامل نہیں ہوتے اس نے جواب دیا کہ مجھے وہاں خواجہ ہوتا ہے کہ سبزی بیچنے والے یعنی ادنیٰ لوگ میرا سامنا کریں گے۔

کہا جاتا ہے کہ وائل بن حجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قطعہ زمین عطا فرمایا اور حضرت معاویہ کو فرما دیا کہ یہ زمین اس کو دے دیں اور اس کو تحریر کردیں معاویہ شدید گرمی میں وقت دوپہر اس کے ہمراہ چلے گئے اسکی اونٹنی کے پیچھے پیچھے پیدل چلتے رہے تمازت آفتاب جلا رہی تھی۔ حضرت معاویہ نے اس کو فرمایا کہ مجھے بھی اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کر لو تو اس نے جواب دیا کہ تم اس قابل نہیں ہو کہ بادشاہوں کے ساتھ بیٹھ سکو۔ آپ نے اس کو کہا کہ پھر تم مجھے اپنا جوتا ہی دو کہ میں زمین کی حرارت سے بچ سکوں اس نے کہا ابن ابی سفیان مجھے بوجہ بخل انکار نہیں ہے۔ بلکہ یہ خدشہ ہے کہ اگر تو نے میرا جوتا پہن لیا تو تو یمن کے اقبال تک رسائی حاصل کر لے گا۔ پس تیرے واسطے اسی قدر ہی شرف بہت ہے کہ تم میری اونٹنی کے سائے میں چلتا رہے کہا جاتا ہے کہ یہ متکبر آدمی پھر حضرت معاویہ کے دور خلافت میں ان سے ملا۔ آپ نے اس کو اپنے ساتھ ہی چارپائی پر بٹھا لیا اور اس کے ساتھ باتیں کی۔ مسرور بن ہند نے ایک شخص سے کہا کہ کیا مجھے تو جانتا ہے۔ اس نے کہا کہ نہیں اس نے اس سے کہا کہ میں مسرور بن ہند ہوں۔ اس نے کہا کہ میں تجھ کو نہیں جانتا ہوں تو مسرور کہنے لگا کہ ہلاکت ہے اس کے واسطے جو چاند کو بھی نہ جانے۔ ایک شاعر نے کہا ہے۔

۔۔۔۔۔ اس بے وقوف سے کہہ دو کہ جو آپ نے سرین تکبر سے مٹکا رہا ہے اگر تجھے معلوم ہو جائے کہ ان میں کیا ہے تو تم تو تکبر ہرگز نہ کرتے تکبر دین کے لیے تباہ کن ہوتا ہے اور عقل میں نقصان کا باعث ہوتا ہے اور عزت کے لئے مہلک ہوتا ہے پس تو بیدار ہو۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: