عذاب کیوں آتے ہیں

حاکم بہ صحیح روایت حضرت ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھل کو خریدنا قبل اس کے وہ بڑا ہو یعنی پک جائے اس سے پہلے خرید نے سے منع فرمایا اور فرمایا جب کسی بستی کے اندر تو زنا اور سود عام ہونے لگتا ہے تو انہوں نے خود کو اللہ کے عذاب کا حقدار بنا لیا۔
ابو یعلی کی جید سند کے ساتھ روایت ہے جناب عبداللہ بن مسعود سے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث روایت کرتے ہیں جس میں ارشاد ہے جو قوم زنا اور سود میں مبتلا ہوگئیں انہوں نے خود کو اللہ کے عذاب کا حقدار بنا لیا۔

مسند احمد میں آیا اور اسناد اس کے قابل نظر ہے کہ جس قوم میں سود عام ہو جائے ان کے اوپر ڈر دشمن کی طرف سے اور قحط سالی عام وارد ہو جاتے ہیں اور جو قوم عام رشوت میں مبتلا ہو جائے۔ ان پر دشمن کی طرف سے خوف اور قحط وارد کر دیا جاتا ہے خواہ بارش ہو یا نہ ہو۔
ایک طویل حدیث مسند احمد میں مروی ہے اور ابن ماجہ میں مختصر حدیث میں اور اصفہانی کی روایت میں بھی آیا ہے۔ جس شب کو میں معراج پر لے جایا گیا ہم آسمان ہفتم پر گئے تو اوپر کی جانب میں نے نظر کی تو گرج اور بجلی اور آندھیاں دیکھیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھر ہم اس قوم کے پاس پہنچے جو کمروں کی مانند شکم رکھتے تھے۔ ان کے اندر سانپ اور بچھو تھے وہ ان کے شکموں کے اندر باہر سے ہی دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے دریافت کیا کہ اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں تو انہوں نے بتایا کہ یہ سود کھانے والے ہیں۔

اور اصفہانی حضرت ابو سعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ مجھ کو جس وقت آسمان کے اوپر لے جایا گیا تو میں نے آسمان دنیا پر نگاہ کی جہاں اس طرح کے آدمی موجود تھے جو بڑے بڑے کمروں کی مانند شکموں والے تھے۔ فرعون کے راستے پر وہ گرے ہوئے تھے۔ جن کو ہر صبح اور شام کو آتش کے اوپر کھڑا کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں۔ اے پروردگار تعالیٰ قیامت کو کبھی منعقد نہ کرنا۔ میں نے دریافت کیا ہے کہ جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ آپ کی امت میں سے سود خور لوگ ہیں یہ ایسے ہی کھڑے ہوتے ہیں جس طرح کہ ان کو شیطان نے مس کیا اور مبتلاۓ آسیب کردیا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: