قیامت کے دن سود خور کس طرح کھڑا ہوگا

حضرت عبداللہ نے فرمایا ہے سود کے بہتر گناہ ہے ان میں سے کم ترین گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص جیسے اسلام کی حالت میں ہوتے ہوئے اپنی والدہ کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہو اور سود کا ایک درہم تیس اور کچھ مرتبہ زنا سے بھی زیادہ بڑا سخت گناہ ہے اور یہ بھی فرمایا کہ روز قیامت اللہ ہر نیک اور برے شخص کو کھڑا ہونے کی اجازت عطا فرمائے گا لیکن سودخور یوں کھڑا ہوگا جس طرح کسی کو شیطان نے چھوڑ دیا ہو۔
اور مسند احمد میں بہ سند جید حضرت کعب احبار سے مروی ہے کہ:۔

33 مرتبہ زنا کا مرتکب ہو جاؤں ایسی برائی مجھے سود کا ایک درہم کھانے کے مقابلے میں زیادہ پسند ہے۔ جبکہ میں سود کھا رہا ہوں اور اللہ کے علم میں ہو میرا یہ جرم۔
مسند احمد بہ سند صحیح اور طبرانی شریف میں مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ انسان سود کا ایک درہم کھالے اور اس کو وہ معلوم ہو تو یہ جرم 36 زنا سے شدید تر ہے۔
ابن ابی دنیا اور بیقہی شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا اور سود کے جرم اور اس کے وبال کی سختی بیان فرمائی اور فرمایا کہ بندے کو جو ایک درہم سود کو ملے وہ عنداللہ 36 زنا سے زیادہ سخت گناہ ہے کہ انسان اس کا مرتکب ہو اور سب سے بڑا سود ایک مسلمان کے مال سے کچھ لینا ہے۔

طبرانی صغیر اور اوسط میں وارد ہے کہ:۔
جس شخص نے ظلم کرنے والوں کی امداد باطل کی کہ اس کے ذریعے ایک حق کو وہ دبا لے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے وہ شخص بری الذمہ ہوا اور جس نے ایک درہم سود ہی کھا لیا وہ 33 زنا سے زیادہ شدید گناہ ہے۔
طبرانی اوسط میں حضرت عمرو بن راشد کی موثوق روایت موجود ہے کہ:۔

سود کے فی الحقیقت بہتر ابواب ہیں۔ سب سے کم ترین درجہ ایک مرد کا اپنی والدہ کے پاس جانا ہے اور سب سے بڑا سود کسی کا اپنے بھائی کے مال کی طرف دست درازی کرنا ہے۔ ابن ماجہ اور بیقہی شریف میں ابو معشر سے مروی اور یہ موثوق ہیں۔ انہوں نے حضرت ابوسعید مقبری اور وہ حضرت ابو ہریرہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے سود میں ستر گناہ ان تمام میں کم ترین یہ ہے کہ جیسے مرد اپنی والدہ کے ساتھ نکاح کرلے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: