اگر چار امور موجود ہیں

احمد وغیرہ بہ سند حسن بیان کرتے ہیں کہ تجھ میں اگر چار امور موجود ہیں تو پھر تجھے کوئی غم نہیں ہے کہ دنیا کے اندر جو اچھائی رہ جائے۔
1۔ امانت کی حفاظت۔

2۔ سچ بولنا۔

3۔ خوش اخلاق ہونا۔

4۔ غذا حلال ہونا۔

طبرانی شریف میں ہے۔

خوشخبری ہے اس کے واسطے جس کی کمائی حلال ہے اس کا باطن درست ہو وہ بظاہر محترم ہو اور خلق اس کی شر سے دور ہو۔

اس کے واسطے اچھی خبر ہے جو اپنے علم کے مطابق عمل پیرا ہوتا ہے۔ مال میں سے بچ جانے والا حصہ فی سبیل اللہ صرف کرتا ہوں اور فضول کلام سے باز رہے۔

طبرانی میں ہے۔
اے سعد! اپنی غذا عمدہ رکھ یعنی حلال تیری دعائیں قبول ہو گی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔

ایک آدمی اگر اپنے شکم میں حرام کا لقمہ داخل کر دیتا ہے تو آئندہ چالیس روز تک اس کا کچھ بھی عمل قبول نہیں کیا جاتا اور جس بندے کا گوشت حرام سے ہی بنا ہو تو اس کا زیادہ حق آگ کو حاصل ہے۔
اور بزاز میں روایت ہوا ہے مگر اس میں نکارت ہے۔ جس کی امانت نہیں اس کا دین نہیں اور اس کی نماز بھی نہیں نہ ہی اس کی زکوۃ ہے اور جس نے حرام مال لیا اور اس میں سے قمیض بنا کر پہن لی اس کی نماز قبول نہیں ہوتی تاآنکہ اس قمیض کو اتار نہ دے۔
اللہ اس سے زیادہ برتر ہے کہ وہ اس طرح کے شخص کے عمل کو یا نماز کو قبول فرمائے جس کے بدن پر حرام سے قمیض موجود ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر سے مسند احمد میں روایت ہوا ہے کہ فرمایا جو شخص دس درہم میں کوئی کپڑا خریدا کرے۔ جب کہ ان میں ایک درہم حرام کا ہو اس کی نماز کو اللہ تعالی قبول نہیں فرماتا آنکہ یہ کپڑا اس کے بدن کے اوپر رہتا ہے۔ پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو کانوں میں داخل کر لیا اور فرمایا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماعت خود نہ کیا ہو تو دونوں کان بہرے ہو جائیں۔

اور بیقہی شریف میں ہے۔ جو شخص چوری کے مال کو خرید لے جب کہ اسے معلوم ہوکہ یہ چوری کا مال ہے تو وہ بھی اس کی عار اور معصیت میں شامل ہوگیا۔ اور حافظ منذری نے فرمایا ہے کہ اس کی سند میں حسن ہونے کا احتمال موجود ہے یا موقوف ہے۔
اور جید سند سے احمد روایت کرتے ہیں مجھے اس کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ تم میں سے اگر ایک شخص رسی لے کر پہاڑ پر چلا جائے اور لکڑیاں کاٹے پھر اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے آئے اور اسی کمائ سے ہی وہ کھائے تو وہ بہتر ہے اس چیز سے جو وہ اپنے منہ داخل کرے جب کہ اس کو اللہ نے حرام فرما دیا ہو۔
ابن خزیمہ صحیح ابن حبان اور حاکم میں بھی روایت کیا گیا ہے۔ جس نے حرام مال اکٹھا کیا پھر اسے صدقہ کیا اس کے واسطے اس کا کچھ اجر نہ ہوگا۔ اور اس کا بوجھ یعنی اس کا گناہ اس پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: