قرض اور تجارت میں اللہ کا ارشاد

یہ مستشنی منقطع ہے کیونکہ تجارت باطل میں شمار نہیں ہوتی خواہ کوئی مفہوم لیں اور تمام کے ساتھ اس کی تاویل جبھی ہونا ممکن ہے کہ یہ متصل نہ ہو۔ اس کا یہ محل و موقع نہیں ہے۔ گو یہ تجارت عقد معاوضہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ مگر قرض اور ہبہ تجارت کے ساتھ لاحق ہونا دیگر دلائل کی بنا پر ہے۔ اللہ تعالی کا بھی ارشاد موجود ہے۔
عن تراض منکم۔ ( جو تم میں رضا مندی سے ہو)۔

مراد یہ ہے کہ اگر اپنی خوشی سے تم جائز طور پر دیتے ہو تو پھر یہ ٹھیک ہے اور جو کھانے کا مخصوص ذکر ہوا ہے۔ تمام مفہوم اس تک محدود نہیں بلکہ بالعموم نفع اٹھانے کی یہ صورت ہے جس طرح کہ ہوا کرتی ہے۔ فرمایا گیا ہے۔
ان الذین یاکلون اموال الیتیمی ظلما انما یاکلون فی بطونہم نارا۔
( تحقیق وہ لوگ جو یتیموں کے مالوں کو ظلم کرتے ہوئے کھاتے ہیں بے شک وہ اپنے شکموں میں آگ کھاتے ہیں۔ النساء 10)۔

اس بارے میں احادیث میں بھی کثیر شواہد ہیں جن میں متنبہ فرمایا گیا ہے مسلم شریف وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے ارشاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔
اللہ پاک ہے اور اس کو صرف پاک چیز ہی قبول ہے اور ایماندار لوگوں کے لیے اللہ نے وہی حکم فرمایا ہے جو اپنے رسولوں کو فرمایا ہے جیسے کہ ارشاد الہی ہے۔
یایھا الرسل کلوامن الطیبات واعملواصالحا
( اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور صالح عمل کرو۔ المؤمنون 51)۔

نیز ارشاد الہی ہے۔
یا یھا الذین امنوا کلوا من طببت ما رزقنکم
( اے ایمان والو پاک چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو رزق عطا فرمایا ہے۔ البقرہ 172)۔
پھر آپ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر فرمایا جو لمبا سفر کرے پریشان بالوں کے ساتھ اور گردو غبار میں اٹا ہوا۔ آسمان کی جانب ہاتھوں کو دراز کیے کہتا ہو۔ یارب یارب حالانکہ اس کی خوراک حرام ہو۔ اس کا مشروب حرام ہو لباس حرام ہو اور حرام غذا اس کو میسر ہو اس کی دعا کس طرح قبول ہوسکتی ہے۔ طبرانی شریف میں بہ سند حسن روایت ہوا ہے کہ” حلال کی طلب کرنا ہر شخص پر واجب ہے”۔ اور طبرانی اور بیہقی شریف میں آیا ہے۔ فرائض کے ادا کرنے کے بعد حلال طلب کرنا فرض ہے۔ اور ترمذی شریف میں ہے جسے حسن صحیح غریب بتایا گیا ہے اور حاکم کی روایت ہے۔

اور اس کو صحیح کہا ہے۔” جو پاک حلال کھاتا ہے اور سنت کے مطابق عمل پیرا ہو اور اس کی طرف سے ایزاء سے لوگ بچے رہیں وہ جنت میں چلا گیا”۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی امت میں آج اس طرح کے لوگوں کی کثرت ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد کی صدیوں میں بھی ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: