ناجائز مال کھانا

اللہ کا ارشاد پاک ہے۔
یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل۔
( اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مالوں کو ناجائز مت کھاؤ۔ النساء۔ 29)
اس آیہ کریمہ کے مفہوم کے بارے میں اختلاف رائے ہے بتایا گیا ہے کہ اس سے مراد سور خوری جوا لوٹ مار چوری خیانت اور جھوٹی گواہی اور جھوٹی شہادت کے ذریعے مال حاصل کر لینا وغیرہ حرام کھانا فرمایا گیا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ یہ ایسا مال ہے جو دوسرے شخص سے بلاکسی عوض کے حاصل کر لیا جائے۔ یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ نے دقت محسوس کی وہ کسی کے بھی گھر سے نہیں کھاتے تھے۔ پس سورۃ النور کی اس آیت مبارکہ کا نزول ہوا۔
( اور کوئی مضائقہ نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ یا اپنے ماں باپ کے گھروں سے کھاؤ۔ النور۔61)
ایک قول ہے کہ اوپر مندرجہ پہلی آیت سے مراد فاسد عقود ہیں۔ اور یہ اس بنا پر ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے ایک قول کے مطابق یہ محکم آیت ہے۔ یہ منسوخ نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی یہ قیامت تک منسوخ ہوگی۔
ہر ناجائز ناحق طریقے سے کھانا باطل ہی ہے۔ زیادتی کر کے حاصل کر لینا جیسے کہ چھین لینا یا خیانت سے حاصل کر لینا چوری کر لینا یا کھیل اور مذاق میں لے لینا۔ یا فریب دے کر یا دھوکا دے کر حاصل کیا ہو۔ جیسے عقود فاسد کے ذریعے لے لینا اور ایک مزکورہ قول بھی اس کی تائید میں ہے۔ اس آیت کے مفہوم میں آدمی کا کھانا پینا اور اپنا مال بھی شامل ہے جو حرام میں صرف کرتا ہے اور دوسروں کے اموال کو بھی شامل ہے۔ جیسے کہ قبل ازیں مذکور ہوچکا ہے۔ اللہ کا ارشاد پاک ہے۔
الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم۔
( سوائے ایسی صورت کے کہ تجارت ہو تمہاری آپس کی خوش دلی سے۔ النساء 29)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: