جب اللہ اپنے بندہ سے محبت کرتاہے

مروی ہے۔
ایسے شخص کے حق میں خوشخبری ہے جسے اسلام کی ہدایت نصیب ہوگی اس کا رزق بقدر کفایت ہوا اور وہ اس پر راضی رہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے تھوڑی روزی پر بھی جو شخص اللہ کے ساتھ راضی ہوگیا اللہ بھی اس کے تھوڑے سے عمل کے باعث اس سے راضی ہوگا۔
ارشاد الٰہی ہے۔
کسی اپنے بندہ کے ساتھ جب اللہ محبت کرے تو اس کو ابتلاء میں ڈالتا ہے اس میں اگر وہ صابر رہا تو اللہ اس کو منتخب فرمالیتا ہے اور اگر وہ راضی رہے تو اللہ اس کو اپنا مخصوص بندہ بنا لیا کرتا ہے۔
آنحضرت کا یہ بھی ارشاد ہے کہ قیامت کا انعقاد ہونے پر اللہ میری امت کی ایک جماعت پر تخلیق فرمائے گا وہ اپنے قبور میں سے اڑ کر بغیر کسی رکاوٹ کے سیدھے جنت میں داخل ہوں گے۔ وہاں جنت میں کھائیں پئیں گے نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ ملائکہ ان سے پوچھیں گے کیا تم نے محاسبہ دیکھ لیا ہے۔ وہ جواب دیں گے ہم نے تو کوئی حساب نہیں دیکھا وہ سوال کریں گے کیا تم پل صراط کو عبور کر آئے ہو وہ بتائیں گے ہم نے تو کوئی پل صراط نہیں دیکھا ہے پھر وہ سوال کریں گے کیا تم نے دوزخ دیکھا ہے وہ بتائیں گے نہیں وہ سوال کریں گے۔ تم کس کی امت سے ہو وہ کہیں گے ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہیں تو فرشتے انہیں کہیں گے تم کو ہم اللہ کی قسم دیتے ہوئے تم سے پوچھتے ہیں کہ ہمیں بتاؤ کہ دنیا کے اندر تمہارے کیا اعمال تھے وہ بتائیں گے۔ ہم میں دو عادتیں موجود تھیں۔ انہی کے باعث اللہ نے فضل اور کرم فرمایا اور ہم اس مرتبے کو پہنچ گئے وہ پوچھیں گے کہ ایسے دو عمل کیا تھے وہ کہیں گے جس وقت ہم خلوت میں ہوا کرتے تھے اللہ کی نافرمانی کے ارتکاب سے ہمیں حیا ہوتی تھی۔ اور جو کچھ ہماری قسمت میں کیا گیا تھا اسی قلیل پر ہی راضی رہتے تھے ملائکہ کہیں گے فی الواقع تم اس کے مستحق ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: