دیدار الٰہی

اللہ کے دیدار سے افضل کوئی مرتبہ نہیں ہے اور رضا اس لئے طلب کی گئی ہے کہ وہ دیدار الہی ہمیشہ کے لئے رہے۔ جیسے کہ انہوں نے اپنا آخری مقصود اس کو ہی بنا لیا۔ دیدار الہی حاصل ہوگیا اور طلب کی اجازت ہوگی تو پھر انہوں نے دیدار ہمیشہ رہنے کا سوال کر دیا اور ان کو معلوم ہوگیا کہ حجاب دور ہمیشہ کے لئے ہونے کا باعث رضا ہی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔

( اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی ہے)۔

کچھ اہل تفسیر نے کہا ہے مزید وقت میں پروردگار تعالیٰ جنت والوں کو تین تحفے دے گا۔
1۔ اللہ رب العالمین کی جانب سے ایک تحفہ اس طرح کا جنت میں دیا جائے گا جس طرح کا پہلے ان کے پاس نہیں ہوگا اور وہ اس طرح ہے جیسے کہ ارشاد الہی ہے۔

( بس کسی جان کو علم نہیں ہے کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے واسطے کیا کچھ پوشیدہ رکھا ہوا ہے)۔
2۔ پروردگار تعالیٰ کی طرف ان پر سلام فرمایا جائے گا اور اس تحفہ کے علاوہ یہ انعام بھی ان پر فرمایا جائے گا۔ جیسا کہ فرمان الہی ہے۔

( انہیں رب رحیم کی طرف سے سلام کہا جائے گا)۔
3۔ اللہ کی طرف سے اشارہ ہو گا میں تمہارے ساتھ راضی ہو یہ چیز ان کے لئے تحفے سے افضل اور سلام سے بھی افضل اور اشرف ہوگی۔ اللہ نے فرمایا ہے۔
( اور اللہ کی رضا سب سے بڑی ہے)۔

مراد یہ ہے کہ تم اس وقت جس نعمت میں موجود ہو یہ تمام تر فضل خداوندی اس کی رضا کے باعث ہے اور یہ ثمر ہے بندے کی رضا کا۔
احادیث میں بھی رضا کی فضیلت اور اشرف کا ذکر ہوا ہے روایت ہے کہ صحابہ کے ایک گروہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم کیا ہو تو انہوں نے عرض کیا ہم مومن ہیں۔ آپ نے کہا تمہارے ایمان کی کیا نشانی ہے انہوں نے عرض کیا ہمارا مصیبت میں صبر کرنا فراخی میں شکر ادا کرنا اور قضائے الہی والے موقع پر ہم راضی رہا کرتے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا مجھے قسم ہے کعبہ کی رب کی تم مومن ہی ہو۔

دیگر ایک روایت میں یوں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے حکماء علماء اپنی فقاہت کی وجہ سے انبیاء علیہم السلام کے درجات کی مثل ہوجانے کے قریب ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: