رضا کی فضیلت

آیات قرآنی میں رضا کی فضیلت مذکور ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے۔

( راضی ہوگیا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوگئے اس سے)۔

علاوہ ازیں ارشاد فرمایا ہے۔

( اور احسان کی جزا بھی احسان ہے)۔

اور احسان کا آخر یہ ہے کہ بندے پر اللہ راضی ہو جائے اور بندے کو اللہ کی جانب سے یہ اجر کے طور پر حاصل ہوتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔
( اور عدن کے باغوں میں پاکیزہ سکونت گاہیں ہوگی اور اللہ کی طرف سے اس کی رضامندی سب سے بڑی ہے)۔
اللہ نے عدن کی جنت پر بھی رضا کو مقام رفیع عطا فرمایا ہے جس طرح کہ اپنے ذکر پاک کو نماز پر بھی فوقیت عطا فرمائی ہے فرماتا ہے۔
( تحقیق نماز روکتی ہے بے حیائی اور برائی سے اور اللہ کا ذکر ہی سب سے بڑا ہے)۔
نیز جیسے کہ حالت نماز میں مزکور یعنی اللہ کا مشاہدہ ہونا نماز کی حالت سے بھی افضل ہے۔ اسی طرح جنت کے مالک کی رضا بھی جنت سے افضل ہے اور اہل مطلوب کی یہ انتہا ہے۔
حدیث پاک میں آیا ہے کہ اللہ ایمان والوں کے واسطے تجلی فرمائے گا اور یہ بھی ارشاد فرمائے گا کہ مجھ سے طلب کرو وہ عرض کریں گے ہمیں آپ کی رضا مطلوب ہے۔ بس دیدار ہونے کے بعد رضا طلب کرنا ظاہر کرتا ہے کہ انتہائی شرف حصول رضا ہے اور بندے کی رضا کے بارے میں ہم آگے چل کر بتائیں گے اور جو اللہ کی رضا اپنے بندے سے ہے اس کا مفہوم اور ہے اور وہ محبت کے ابواب میں ذکر شدہ بیان کے قریب قریب ہی ہے۔ مگر اس کی وضاحت وانکشاف درست نہیں ہے کیوں کہ خلق کی عقول اس کو سمجھ نہیں سکتی اور جس سے اس پر قدرت ہو وہ خود سے بے خبر ہو جاتا ہے اور اس میں جذب ہو کر رہ جاتا ہے اور بس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: