بازار صرافاں اور خوشخبری

بسند صحیح طبرانی میں مروی ہے کہ قیامت سے پیشتر زنا سود اور شراب عام ہو جائیں گے۔ اورطبرانی میں بسنت لاباس بہ حضرت قاسم بن عبداللہ وراق سے منقول ہے کہ فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن اوفی بازار صرافاں میں مجھے دکھائی دیے۔ انہوں نے فرمایا۔ ایک گروہ صرافاں خوشخبری لے لو وہ کہنے لگے۔ آپ کو اللہ تعالی بشارت جنت دے ہمارے لیے کیا خوشخبری دیتے ہو اے ابو محمد۔ آپ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صرافوں کے بارے میں ارشاد ہے۔ دوزخ کی خوشخبری لو۔

طبرانی شریف میں ہے ایسے معاصی سے بچے رہو جن کی معافی نہیں ہوگی خیانت جوا کسی شے میں خیانت کا مرتکب ہو وہ روز قیامت اسی چیز کے ہمراہ لایا جائے گا اور سود خوری جس نے سود خوری کی وہ روز قیامت دیوانہ خطی بنا ہوا اٹھے گا۔ ازاں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیہ کریمہ پڑھی۔
( وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ ایسے کھڑے ہوں گے جس طرح وہ کھڑا ہوتا ہے جسے شیطان مس کرکے خبطی کر دیتا ہے۔ البقرۃ)۔

اصفہانی ہی نے روایت کیا ہے روز قیامت سود کھانے والا ایسے حال میں آئے گا کہ وہ دیوانہ ہو گا اس کے جسم کا ایک حصہ گھسٹ رہا ہو گا اس کے بعد آنحضرت نے یہ آیت کریمہ کو پڑھا۔
لا یقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس۔

ابن ماجہ اور حاکم میں مروی ہے اور اس کو صحیح کہا ہے۔

” زیادہ سود کمی میں ہی انجام پذیر ہوتا ہے”۔

حاکم کی روایت جس کو صحیح کہا گیا ہے یہ ہے کہ۔

” سود خواہ کتنا ہی زیادہ ہو مگر اس کا نتیجہ کمی ہے”۔

ابو داؤد اور ابن ماجہ ہر دو نے حضرت حسن سے روایت کیا ہے اور وہ حضرت ابو ہریرہ سے راوی ہیں اور ان سے ان کے سماعت کرنے کے بارے میں اختلاف ہے اور عند الجمہور عدم سماع ہے کہ لوگوں پر وہ زمانہ لازم آئے گا جب ان میں سے ایسا شخص کوئی بھی نہ ہوگا جو سود خوری نہ کرتا ہو جو سیدھی راہ نہ کھاتا ہو گا اس کو بھی اس کا غبار پہنچتا ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن احمد زوائد المسند میں مروی ہے مجھے اس ذات کی سو گند ہے جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ میری امت کے اندر بعض لوگ لازم بدترین حالت میں تکبر اور لہوولعب میں شب بسر کریں گے گانے بجانے والیوں کو حاصل کریں گے شراب پیئیں گے سودخوری کریں گے اور ریشم کے لباس پہنیں گے۔

مسند احمد نے اختصار سے اور بیقہی میں مروی ہے الفاظ یہ ہیں۔ امت ھذا میں ایک گروہ لوگوں کا کھانے پینے اور لہوولعب میں رات بسر کرے گا اور صبح ہونے پر وہ بندر اور سور بن جائیں گے۔ کچھ ان میں سے زمین میں دھنس جائیں گے اور بعض پر پتھروں کی بارش ہوگی۔ صبح کو لوگ باتیں کریں گے کہ رات کے دوران فلاں شخص دھنس چکا ہے اور رات کو فلاں گھر دھنس گیا اور کچھ قبیلوں پر اور بعض گھروں پر آسمان سے یوں پتھروں کی بارش کی جائے گی جس طرح قوم لوط پر پتھر برسائے گئے تھے۔ کیوں کہ وہ شراب نوشی کریں گے۔ ریشم کے کپڑے پہنیں گے گانے بجانے والی عورتوں کو رکھتے ہوں گے۔ سودخوری کریں گے قطع رحمی کرتے ہوں گے اور ایک عادت اور بھی ہوگی جو راوی فراموش کر بیٹھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: