دو جنتیں

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے ارشاد کی یوں تفسیر فرمائی ہے۔
جو شخص اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے خوفزدہ ہو اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔الرحمن۔۔۔۔
کہ وہ دو جنت کے باغ ہوں گے ہر دو کے اندر ظروف چاندی کے ہونگے اور ہر چیز ہی چاندی کی ہو گی اور ایک باغ کے اندر ہر چیز سونے کی ہوگی اور برتن بھی سونے کے ہی ہوں گے اور عدن جنت میں اللہ اور خلق کے مابین سوائے ردائے کبریائی کے کوئی پردہ نہ ہو گا ان کو اس طرح زیارت میسر ہوگی۔

اور دروازہ ہاۓ جنت اس طرح سے ہیں کہ ان کی تعداد عبادت کے اصولوں کے مطابق ہوگی اور وہ بڑی تعداد ہے جس طرح معاصی کے اصول کے مطابق دوزخ کے متعدد دروازے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ جس شخص نے فی سبیل اللہ اپنے مال سے ایک جوڑا خرچ کر دیا اس کو جنت کے تمام دروازوں سے بلاوا پڑے گا۔ اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔ پس نمازیوں کو باب الصلوۃ سے طلب کیا جائے گا اور زکوۃ اور صدقات جو دیتے ہیں ان کو باب الصدقہ سے بلائیں گے اور مجاہدوں کو باب الجہاد سے بلائیں گے۔

حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا یہ یقینی بات ہے کہ ہر دروازے پر ایسے لوگ موجود ہوں گے جن کو بلایا جانا ہے۔ لیکن کوئی شخص ایسا بھی ہے جسے ہر دروازے سے بلایا جائے گا۔ آنحضرت نے ارشاد فرمایا ہاں اور مجھ کو امید ہے کہ تم ان میں سے ہو گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: