مسلمانوں کا حق چار امور

حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق یہ ہیں۔ ملاقات ہونے پر سلام کرے جب سلام کیا جائے تو جواب دے بلایا جائے تو بات سنے جب چھینک آجاتی ہے وہ دعا پڑھے اور تو جواب دے اگر کوئی بیمار ہو اس کی تیمارداری کرے۔ مر جائے تو جنازہ پڑھے اگر قسم دلائے تو اس کو پورا کردے نصیحت چاہی جائے تو اچھی بات بتائے عدم موجودگی میں اس کی حفاظت کرے۔ جو کچھ اپنے واسطے چاہتا ہو وہی کچھ اپنے دیگر برادران کے حق میں چاہے جو کچھ اپنے واسطے پسند کرتا ہوں وہی کچھ دیگر کے لیے بھی پسند رکھے ان تمام باتوں کا ذکر احادیث میں ہے۔

مروی ہے حضرت انس سے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے تم پر مسلمانوں کا حق چار امور ہیں نیک سے تعاون کرے اس کی مدد کرے گنہگار کے واسطے دعائے بخشش کرے جانے والے فوت شدہ کے واسطے دعا مانگے اور تائب سے محبت رکھے۔
آیت کریمہ رحماء بینھم( وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحم دل ہیں) کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا ہے کہ صالح شخص برے شخص کے لئے دعا مانگتا ہے اور برا شخص نیک آدمی کے لیے دعا کرتا ہے۔ جس وقت برا شخص امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک شخص کو دیکھیں تو یوں کہے کہ اے اللہ تو نے اسے جو خیر عطا فرمائی ہے اس میں اسے برکت دے۔ اسے ثابت قدمی نصیب فرما اور ہمیں اس کی برکتوں سے بہرہ مند کر دے اور جب کوئی نیک کسی بدکار کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ اے اللہ تعالی اس کو ہدایت عطا فرما اس کی توبہ کو قبول فرما اور اس کے گناہوں کو معاف فرما دے۔

اور یہ بھی ہے کہ اہل ایمان لوگوں کے واسطے وہ کچھ ہی پسند کرے جو کچھ اپنے واسطے پسند کرتا ہے۔ اور ان کے لیے بھی وہ کچھ نہ پسند کرے جو کچھ وہ اپنی خاطر ناپسند کرتا ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر نے فرمایا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سماعت کیا ہے کہ اہل ایمان کی آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور ایک دوسرے پر رحم کی مثال یوں ہے کہ جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہو تو تمام بدن ہی بخار و بیداری میں اس کے باعث تکلیف محسوس کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: