اللہ کے خاص بندے

اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔
( بے شک متوکل لوگوں سے اللہ محبت کرتا ہے)۔
جو نام اللہ کی محبت کے ساتھ موسوم ہوئے ہیں ان میں اعلی ترین درجہ متوکل کا ہے اور جس سے مدد کی خاطر اللہ ہی کافی ہوتا ہے اس کا کس قدر مرتبہ رفیع ہے جس پر اللہ نے اپنی جانب سے کفایت اور محبت اور نگہداشت کا احسان فرما دیا ہو اس کو بہت بڑی کامیابی مل گئی کیوں کہ محبوب جدا نہیں ہوتا نہ ہی وہ دور ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے حجاب اختیار کیا جاتا ہے۔
اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک روایت حضرت عبداللہ بن مسعود کی ہے حضور اکرم نے ارشاد فرمایا حج کے موقع پر میں نے ملاحظہ فرمایا کہ میری امت نے میدان اور پہاڑ کو پر کر دیا ہے۔ مجھے ان کا زیادہ ہونا اور ان کی ہیبت بڑی اچھی لگی مجھے پوچھا گیا کیا تو راضی ہے میں نے کہا ہاں تو ارشاد فرمایا گیا کہ اس امت کے ستر ہزار اشخاص بلا محاسبہ جنت میں داخل ہو جائیں گے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے تو آپ نے فرمایا جو داغ نہیں لگاتے ہیں وہ بری فال نہیں لیتے وہ منتر نہیں پڑھتے حضرت عکاشہ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے واسطے دعا فرما دیں کہ مجھے بھی اللہ انہیں میں سے کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دیں یا اس کو ان میں سے ہی کردے پھر ایک شخص اور کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یارسول اللہ میرے واسطے دعا فرمائیے کہ مجھے وہ ان میں سے کر دے رسول اللہ نے فرمایا عکاشہ تجھ سے سبقت لے گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے اگر تم لوگ اللہ پر توکل رکھو جس طرح کے حق ہے توکل رکھنے کا تو تم کو یوں ہی روزی عطا فرمائے گا جس طرح پرندوں کو فراہم کرتا ہے کہ وہ صبح کے وقت خالی شکم ہوتے ہیں اور شام کے وقت وہ شکم سیر ہو جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: