جنت اور اللہ کا دیدار

واللہ اگر جنت میں صرف جسم نہ ہی سلامت رہنا ہوتا اور صرف بچاؤ ہی ہوتا موت سے اور بھوک اور پیاس اور دیگر سب حوادث سے پھر بھی وہ ایسی تھی کہ اس کے لیے دنیا کو مسترد کر دیتے اور اس جنت پر دنیا کو ترجیح نہ دی جاتی اور اب تو جنت والے مامون سلطان ہیں جن کو تمام قسم کی خوشیاں حاصل ہے اور جو وہ چاہے وہ بھی ملتا ہے۔

ہر روز عرش کے آنگن میں اللہ کا دیدار قدس حاصل ہوتا ہے اور اللہ کے دیدار میں ان کو وہ کچھ میسر ہوتا ہے جو نعمتہاۓ جنت میں بھی نہیں ہے اور وہ دیگر کسی جانب متوجہ نہیں ہوتے وہ ہمہ وقت مامون ہے اس سے کہ انکی حاصل شدہ نعمت ان سے چھنیں وہ ہر قسم کی نعمتوں سے مزے اڑاتے ہیں۔ اس طرح کی جانب انسان کیوں نہیں متوجہ ہوتا حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ایک ندا کرنے والا جنتیوں کو ندا کرے گا تندرست رہو اور کبھی بیمار نہ پڑو ہمیشہ زندہ رہو کبھی نہ مرو جوانی میں رہو کبھی بوڑھے نہ ہو ہمیشہ نعمتوں سے بھرے رہو کبھی محروم اور پریشان نہ ہو ایسا ہی ارشاد اللہ کا ہے۔

( اور پکارے جائیں گے کہ وہ جنت یہ ہے جس کا تم کو وارث بنایا گیا ہے جس کے لئے تم عمل کرتے تھے)۔
جنت کے بارے میں حالات پڑھنا چاہو تو قرآن مجید میں پڑھ لو بیان الہیہ سے زیادہ کامل طور پر کوئی بیان نہیں کر سکتا سورۃ الرحمن کے آخر تک پڑھو اور سورۃالواقعہ میں اور اس کے علاوہ دیگر متعدد صورتوں میں حالات جنت مذکور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: