مہلک چیزیں اور جہنم

اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔
( کیا تو نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنایا اور اس کو اللہ نے گمراہ کر دیاعلم پر۔الفرقان)۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اس سے کافر مراد ہے جو اللہ کی جانب سے بلا ہدایت اور برہان خود ہی ایک دین بنائے رہے یعنی وہ نفس کی خواہش کے متابعت کرتا ہے جس طرف نفس چلاتا ہے ادھر ہی چلنے لگتا ہے وہ کتاب الٰہی پر عمل پیرا نہیں گویا کہ وہ اپنی عبادت گزار ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔
( اور ان کی خواہشوں کی متابعت نہ کرو۔ المائدہ)۔

نیز اللہ نے فرمایا ہے۔
( اور خواہش کی پیروی نہ کر بس وہ تجھ کو اللہ کے راستے سے گمراہ کر دے گی۔ص)
اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پناہ مانگتے اللہ سے دعا کی۔
( اے میرے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس خواہش سے جس کی اطاعت کی جائے اور ایسے بخل سے بھی جس کی پیروی کی جائے)۔
اور آپ نے فرمایا تین چیزیں مہلک ہیں خواہش جس کی اتباع کی جائے اور بخل جس کو اختیار کیا جائے اور انسان کا خود پر غرور اور فخر کرنا۔

یہ سب اس وجہ سے ہے کہ نفس کی خواہش معصیت کا سبب ہوتی ہے۔ آدمی کو دوزخ میں وہی ڈلواتی ہے ہم تو اللہ اس سے محفوظ رکھے ایک عارف نے کہا ہے کہ جس وقت کوئی معاملہ اس طرح ہو کہ سمجھ نہ آتی ہو کہ کون سی بات صحیح ہے۔ تو پھر یہ دیکھو کہ کون سی بات تمہارے نفس کی خواہش سے زیادہ قریب ہے بس اس سے بچے رہو ایسے مفہوم کے ساتھ امام شافعی نے اس طرح سے فرمایا ہے۔

( جس وقت اکام دو صورت معانی میں پھر رہا ہو اور یہ سمجھ نہ آتی ہو کہ کون سی صورت درست ہے اور کون سی غلط ہے تو پھر تو اپنی خواہش کے خلاف کر کیونکہ وہ آدمیوں کو ان باتوں کی جانب لے جایا کرتی ہے جو معیوب ہوتی ہیں)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: