اپنے بھائی سے قطع تعلق رکھنا

ایک حق یہ ہے کہ جس مسلمان کو تو جانتا ہوتا ہے غصے کی صورتحال میں تین دن سے زیادہ اس کے ساتھ قطع تعلق نہ رکھے۔
حضرت ابو ایوب انصاری نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کو تین یوم سے ذیادہ چھوڑے جب ملاقات ہو تو یہ اس سے منہ پھیر لے اور اس سے اعتراض کرے اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کے ساتھ ابتداء کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص کسی مسلمان سے درگزر فرمائے گا اللہ روز قیامت اس سے درگزر فرمائے گا۔
حضرت عکرمہ نے فرمایا ہے اللہ نے حضرت یوسف علیہ السلام بن حضرت یعقوب علیہ السلام کا ارشاد فرمایا کہ میں نے تیرا ذکر دینا اور آخرت میں اس واسطے بلند فرما دیا ہے کہ تونے اپنے بھائیوں کو معافی دے دی۔
حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہ لیا کرتے تھے ہاں اگر اللہ کی حدود کو توڑا گیا ہوتا تھا تو اللہ کے لئے سزا دیتے تھے۔

حضرت ابن عباس سے فرمایا ہے کوئی شخص جس وقت کسی کے ظلم کو معاف فرماتا ہے اللہ اس کی عزت میں زیادتی فرما دیتا ہے۔
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے صدقہ کریں تو مال میں کمی نہیں آتی اور معاف کر دینے سے آدمی کی عزت اور بڑھ جاتی ہے اور جس نے اللہ کی رضا کے لیے تواضع کو اپنا لیا اس کو اللہ رب العزت عطا فرمائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: