تنگی کاوقت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے جو قطع کرکے محض اللہ کے لئے ہی ہوگیا۔ اللہ تعالی اس کی ہر ضرورت میں کافی ہو جاتا ہے اور اس کو وہاں سے رزق فراہم کرتا ہے جہاں سے اس کے گمان تک نہیں ہوتا اور جو سب سے منقطع ہو کر صرف دنیا کا ہی ہو گیا تو اللہ بھی اس کو اس کے حوالے کر دیتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے جس کو یہ پسند ہوتا ہوں کہ وہ تمام لوگوں سے بڑھ کر مستغنی ہو جائے تو اس کو اپنے پاس جو کچھ ہو اس سے بڑھ کر جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ یقین رکھنا چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ان پر جب کوئی تنگی کا وقت آ جاتا تھا تو وہ اپنے اہل خانہ کو کہتے تھے کہ اٹھ کر نماز پڑھو اور فرماتے تھے کہ مجھے میرے رب تعالی کی طرف سے یہی حکم ہوا ہے کہ فرمایا ہے۔
( اور اپنے اہل خانہ کو نماز کا حکم کرو اور اس پر صبر کرو)۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے کوئی ناجائز منتر پڑھا اور داغ لگوایا وہ اس نے توکل نہیں کیا روایت کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک منجنیق کے ذریعے آتش میں ڈالے گئے تو جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ کوئی حاجت ہو تو بتائیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے پاس میری کوئی حاجت نہیں ہے۔ اور فرمایا حسبی اللہ ونعم الوکیل( میرے لۓ اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کارسا ز ہے)۔ آپ کو جس وقت آپ کے اندر پھینکنے کے واسطے گرفتار کیا گیا تھا آپ نے کلمات اس وقت کہے تھے اور اللہ نے فرمایا۔ ابراہیم نے اپنا قول وفا کر دیا۔

حضرت داؤد علیہ السلام کو اللہ نے وحی فرمائی اے داؤد میرا جو بندہ میری مخلوق کو چھوڑ کر محض میرا سہارا اختیار کرتا ہے اگر تمام زمین اور آسمان بھی اس کی مخالفت میں تدبیر بنائے پھر بھی اس کی تجارت کے لیے میں راستہ بنا دیتا ہوں۔
حضرت سعید بن جبیر نے فرمایا ہے کہ مجھے بچھو نے ڈس لیا میری والدہ نے مجھے قسم دلائی کے میں لازماً دم کراؤ میں نے وہ ہاتھ دم کرنے والے کے سامنے کر دیا جس پر ڈسا نہ گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: