روزی کی طلب

حضرت خواص نے یہ آیہ کریمہ پڑھی۔
( اور اس زندہ پر توکل کر جس کو موت وارد نہیں ہوگی)۔
اس کے بعد آپ نے کہا کہ بندے کے واسطے یہ درست نہیں کہ سوائے اللہ کے کسی غیر کی پناہ طلب کرے۔ ایک عالم کو دوران خواب کہہ دیا گیا جس نے اللہ پر اعتماد کر لیا اس نے اپنی طاقت جمع رکھی مراد یہ ہے کہ اپنی قوت کو رائیگاں نہیں جانے دیا۔

ایک صاحب علم نے کہا ہے جس رزق کے بارے میں ضمانت دی گئی ہے اس کے لیے مصروفیت اپنا کر فرض عمل سے غفلت کا شکار نہ ہو جانا چاہیے نہیں تو تمہاری آخرت تباہ ہو جائے گی اور دنیا تو اس قدر ہی حاصل ہو گی جتنی تمہارے حق میں اللہ نے لکھی ہے۔

حضرت یحیی بن معاذ نے کہا ہے کہ طلب کے بغیر روزی حاصل ہونا ثابت کر دیتا ہے کہ رزق کو حکم فرمایا گیا ہے کہ وہ بندے کو ڈھونڈ لے۔

حضرت ابراہیم بن ادھم نے فرمایا ہے کہ ایک راہب سے میں نے دریافت کیا کہ تم کہاں سے کھاتے ہو اس نے جواب دیا میں یہ نہیں جانتا پروردگار سے دریافت کرو کہ وہ کہاں سے کھلایا کرتا ہے۔

ہرم بن حبان نے اویس قرنی سے پوچھا کہ مجھے کس جگہ رہائش رکھنے کا حکم فرماتے ہیں انہوں نے شام کی جانب اشارہ فرما دیا حضرت ہرم کہنے لگے میرا گزارا کس طرح ہوگا تو حضرت اویس نے فرمایا ایسے دلوں پر خیف ہے جن میں شبہ پیدا ہوگیا ان کو اب نصیحت سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔

ایک بزرگ نے کہا۔ میں اللہ کے ساتھ راضی ہوا کہ صرف وہی کارساز ہے اور میں نے ہر طرح کی خیر کی راہ پالی اللہ کی بارگاہ میں ہماری حسن ادب عطا کیے جانے کے لیے التجا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: