قبر کا سفر

“قبر کا سفر ” یہ کہانی ایک گنھگار شخص کی ہے جو قبر مین ہر گناہ اور گنھگار کا انجام دیکھتا ہے ”
اس دن اتوار کا دن تھا , مین کافی تھک چکا تھا , بچوں سے کھیل کود پھر شام میں پکنک پر گیا سارہ دن مصروفیت کی وجہ سے تھک کر چور ہو چکا تھا ۔ بچے اور بیوی باہر لؤن مین ٹی وی دیکھنے بیٹھ گۓ مین جلدی سے سونے چلا گیا ۔ سوتے ہی مجھے اس دن عجیب سی نیند آرہی تھی,جسم مین تھکاوٹ اور ہلنے کی جان نہیں تھی, انکھین نہ بند تھین نہ کھل پا رہین تھین, دماغ پر عجیب سہ وزن محسوس ہو رہا تھا انکھون کے سامنے کالی دھند چھانے لگی تھی۔۔۔کانون مین عجیب سہ شور ہو رہا تھا ۔۔۔۔پاؤں درد کرنے لگے تھے جیسے خون باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہو ۔۔۔۔اتنے مین آنکھوں کے سامنے مکمل اندھیرہ چھا گیا۔۔جیسے آہستہ سے میرے جسم سے جان ںکل رہی ہو ۔۔۔۔میری آنکھین بند تھین پھر بھی مجھے وہ ںظارے دکھائی دینے لگے تھے ۔۔۔نا چاہتے بھی دماغ مین ماضی کے پچھلے کیے گناہ یاد آرہے تھے ۔۔جیسے کوئی بھکاری بچہ مجھ سے بھیک مانگنے آیا اور مین نے اسے دھکہ دے کر ہٹا دیا ۔۔۔لڑکیوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر ان سے کیے گناہون کی یاد ۔۔۔۔مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے میرے کیے سارے گناہ کسی movie کی طرح میرے سامنے چل رہے تھے ۔۔۔مین جاگنے کی کوشش کر رہا تھا پر میرے جسم مین ذرہ سہ ہلنے کی طاقت نہ بچی تھی, جیسے ایک کھوکلی لاش کسی نہر مین تیر رہی ہو۔۔۔میرے کانون مین اذان کی آواز گونج رہی تھی اور اس دوران میرے ہسنے اور بات چیت کی یاد ۔۔۔۔۔نماز پر جان بوجھ کر نہ جانا۔۔۔ان سب یادون سے ایک خوف طاری ہونے لگا تھا ۔

پھر کچھ لمحون بعد مجھے کالے لباس مین ایک شخص دکھائی دینے لگا اور مجھ سے کہنے لگا۔۔۔مین ملک الموت ہون۔۔۔تمہارا وقت اس دنیا مین پورا ہو چکا ہے ۔۔۔۔۔اور مجھے حکم ہوا ہے کہ تمہارای جان لی جائے, مین سن کر گھبرا گیا, روتے منت کرتے کہا خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو ۔۔۔۔۔میری ابھی مرنے کی عمر نہیں ہے ۔۔میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہین ۔۔۔اور مین نے قبر کے لیے کوئی تیاری بھی نہیں کی ہے۔۔اور میرے کوئی اچھے کام بھی نہیں ہین۔۔۔مین نے نمازین بھی نہیں پڑھین۔۔۔۔خدا کے لیے مجھے آخری موقع دو تا کہ مین نماز پڑھون۔۔۔اچھے کام کرون۔۔۔خدا کو راضی کرون تا کہ قبر کے عذاب سے بچ جاؤن۔ میری التجائین سن کر وہ مجھ سے افسوس کرنے لگا اور کہنے لگا ” اے ابن آدم کیا تمہین معلوم بھی تھا کہ موت کی کوئی عمر نہین۔۔تو تم نے یہ سب اچھے کام پہلے کیون نہیں کیے۔۔تم دنیا مین جس کام کے لیے آئے تھے وہ تم بھول گئے اور جنہون کے لیے تم نے دنیا مین کام کیا تو وہ آج تیرے سب کہاں ہین۔۔۔افسوس تم نے ساری زندگی بڑے بڑے واسطے بنانے وہ بھی آج تمہین موت سے نہیں بچا سکتے۔۔۔کیونکہ خدا کی طرف سے تمہاری جان لینے کا حکم ہوا ہے جسے کوئی بھی ٹال نہین سکتا۔۔اب تمہاراے جیسے اعمال ہونگے ویسہ ہی برتاؤ ہوگا تم سے ۔۔۔

وہ میری روح قبز کر چکا تھا اور اب مین اسی بیڈ پر لاش کی طرح سویا ہوا تھا , میرے چارون طرف میری بیوی بچے , اور خاندان والے موجود تھے , سب میرے لیے رو رہے تھے , کچھ فون پر ادھر أدھر میرے مرنے کی اطلاع دینے لگے, عورتین دھارین مار کر میری لاش پر رو رہیں تھین۔۔جن کی آواز سے میری روح کو تکلیف پہنچ رہی تھی۔ جاری ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: