توبہ اور شراب

عتبہ الغلام شباب میں تھے اور توبہ کرنے سے قبل وہ شراب پینے اور فسق و فجور کی نسبت سے شہرت رکھتے تھے۔ وہ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی مجلس میں حاضر ہوئے جب کہ حضرت حسن اس وقت اس آیت پاک کی تفسیر بیان کرنے میں مشغول تھے۔ ( کیا ابھی وہ وقت نہیں آن پہنچا کہ ان کے دل ذکر اللہ کی خاطر نرم پڑ جائیں)۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا وعظ اتنا موثر ہوا کہ لوگ رونے لگے تو ایک نوجوان کھڑا ہو گیا اور کہا اے نیک شخص کیا میری طرح کے فاسق اور فاجر آدمی کی توبہ بھی اللہ تعالی قبول فرماتا ہے جب میں توبہ کروں تو۔

حضرت علی نے فرمایا ہاں تیرا یہ فسق و فجور ہوتے ہوئے بھی اللہ تعالی تیری توبہ کو قبولیت عطا فرمائے گا۔ عتبہ نے یہ سنا تو اس کا چہرہ زرد ہو گیا بدن کپکپانے لگا وہ چلایا اور بے ہوش ہو کر گر پڑا اور اس نے شعر پڑھے۔ ( اے نوجوان جو عرش والے کی نافرمانی کرتا رہا کیا تجھے معلوم ہے کہ عاصیوں کی سزا کیا ہے۔ نافرمانی کے مرتکب کے لیے دوزخ ہے جس میں گرج ہوگی اور جس روز پیشانیوں سے گرفتار ہوں گے۔ اس روز جب غضب و غیض ہوگا بس اگر تو آگ پر صبر کر سکتا ہے تو نافرمان ہی رہ۔

نہیں تو نافرمانی سے خود دور ہی رہا کر اور تو نے جو خطائیں کی ہیں خود کو تونے مبتلا کر دیا ہے اب تو اپنے چھٹکارے کے واسطے کوشش کر)۔ پھر عتبہ نے ایک چیخ ماری اور بے ہوش ہو کر گرپڑا افاقہ ہوا تو کہا یا شیخ کیا میری طرح کمینے شخص کی توبہ بھی اللہ تعالی قبول کرلیتا ہے۔ معافی دیتا ہے اس کے بعد اس نے سر اٹھا کر اللہ سے بخشش کی دعائیں مانگیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: