سلطان محمد فاتحؒ

قُسطنطنیہ کی فتح ہر مسلمان جرنیل کا خواب تھی اور اس کی بنیادی وجہ رسولِ کریم ﷺ کی اس کے فاتح کے بارے میں بشارت تھی
(مسند امام احمد، جلد نمبر 4، صفحہ نمبر 335) یہی وہ فرمانِ عالی شان تھا جس نے ہر دور میں مسلمان فاتحین کو قسطنطنیہ فتح کرنے کا پروانہ بنائے رکھا لیکن پے در پے حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود بھی اس قدیم شہر کے دروازے کسی مسلمان فاتح پر نہ کُھل سکے. خلافتِ راشدہ کے دور سے ہی جب اسلامی سلطنت کو بہت زیادہ وسعت ملی اور قسطنطنیہ فتح کرنا ہر مسلمان سپہ سالار کا خواب تھا.

قسطنطنیہ کی فتح کے لئے جانے والی مہمات میں کئی جلیل القدر صحابہ کرام اور اہل بیت رضوان اللہ علیھم اجمعین بھی شامل رہے.حضرت عمر بن عبدالعزیز، ہشام بن عبدالملک ، مہدی عباسی اور ہارون الرشید جیسے پُرجلال خلفاء نے بھی اس شہرِ قسطنطنیہ کو فتح اور تسخیر کرنے کے لئے بڑے زبردست حملے کئے مگر قسطنطنیہ کسی سے بھی فتح نہ ہو سکا. قسطنطنیہ ایک ناقابلِ تسخیر شہر تھا، اس کے تین اطراف میں سمندر تھا اور صرف ایک حصہ خشکی تھی. شہر کے گرد 14 میل کی ایک قطاع دائرے میں ایک مضبوط فصیل تھی، جس پر ایک سو ستر (170) فٹ کے طویل برج بنے ہوئے تھے. باہری فصیل کے اندر ایک اور فصیل بنی ہوئی تھی اور ان فصیلوں کے بیچوں بیچ ایک ناقابلِ عبور خندق بنی ہوئی تھی، جس کی چوڑائی ساٹھ (60) فٹ اور گہرائی سو (100) فٹ تھی اور مزید ایک اندرونی فصیل نے کم و بیش ایک لاکھ کی آبادی کو پناہ دے رکھی تھی اور یوں یہ شہر فتح کرنا قریب قریب ناممکن ہو گیا تھا. قسطنطنیہ عیسائی دنیا کا روحانی مرکز تھا اور اسے عیسائی دنیا میں ایک روحانی قلعہ کی حیثیت حاصل تھی.چنانچہ مسلمان فاتحین کے بیسیوں لشکر اس شہر پہ پورے جنگی سازوسامان کے ساتھ یلغار کرتے لیکن ہر مرتبہ ناکام لوٹتے. اور پھر آقا کریم جنابِ محمد مصطفےٰ ﷺ کی اس بشارت کا مستحق دولت عثمانیہ کا ساتواں فرمانروا ” سلطان محمد فاتحؒ” ٹھہرا.عثمانی ترک، جنہیں ہم خلافت عثمانیہ کے نام سے جانتے ہیں، خراسانی خانہ بدوش “ارطغرل” کے بیٹے “عثمان خان “کی اولاد تھے.

یہ ایشیائے کوچک میں داخل ہوئے تو انہوں نے ایک سلطنت کی بنیاد ڈالی جو صرف تین سو سال میں دنیا کی ایک طاقتور سلطنت بن گئی. اس کے عروج کا دور مشرق میں “سلطان سلیم” اور مغرب میں “سلیمان اعظم” پر ختم ہو تاتھا لیکن خلافت عثمانیہ کا مشہور فرمانروا “سلطان محمد فاتح ” ہے جس کے ہاتھوں سرکار دوعالم ﷺ کی بشارت تکمیل کو پہنچی. ”قسطنطین” دوازدہم اور سلطان محمد کے درمیان ہونے والی یہ جنگ تحیرکن جنگ اور انہونے واقعات پر مبنی ہے (جس پہ آج بھی دنیائے جدید حیران ہے). سب سے تحیرکن وقت اور معرکہ وہ تھا جس میں سلطان محمدؒ نے اپنے بحری بیڑے کو بحری جہاز خشکی پر چلانے کاحکم دیا اور دس میل کا دشوار گزار چٹانی راستہ عثمانی بحری بیڑے نے پتھریلی چٹانوں پر گھسٹ کر طے کیا اور یہی اس معرکہ کا سخت ترین اور فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوا.جب تیسری صدی عیسوی میں قسطنطین نامی بادشاہ نے عیسائیت کا مذہب قبول کرکے اس شہر کو اپنا پایۂ تخت بنایا تھا تو اس کا نام “قسطنطنیہ”مشہور ہوا. جہالت میں ڈوبے اہلِ مغرب کی آخری شکست اور مسلمانوں کی آخری فتح کا یہ سنہری باب سلطان محمد فاتحؒ کے ہاتھوں رقم ہوا.قسطنطنیہ (موجودہ نام استنبول اصل نام اسلام بول) کے فتح کی سعادت اس لشکر کے حصہ میں آئی جو سلطنتِ عثمانیہ کے حکمران سلطان محمد کی سربراہی میں

“ربیع الاول 857 ہجری” (اپریل 1453ء) میں قسطنطنیہ کی فتح کے لئے گیا. ایک طویل محاصرہ اور شدید جنگ کے بعد جمادی الاول 857 ہجری (مئی 1453ء) میں قسطنطنیہ مسلمان ترک افواج کے ہاتھوں فتح ہو گیا اور بالآخر ساتویں عثمانی فرمانروا سلطان محمد کا نام تاریخ میں قسطنطنیہ کے فاتح کی حثیت سے جلوہ گر ہوا.
اس عظیم الشان معرکے میں کامیابی کی وجہ سے سلطان محمد کو “فاتحؒ” کا لقب ملا. اب تاریخ اُسے “سلطان محمد فاتحؒ” کے نام سے جانتی ہے. سلطان محمد فاتحؒ نے فتح قسطنطنیہ کے بعد فصیلِ شہر کے قریب مدفون میزبانِ رسول حضرت ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مزار اور مزار کے ساتھ ایک مسجد تعمیر کروائی، اس مسجد کا نام “جامع ایوؓب ” رکھا گیا.سلطان محمد فاتحؒ نے یونان ، بوسنیا، کریمیا ، سمیت کئی یورپی علاقوں کو بھی فتح کیا، اور بہت سی یورپی ریاستوں کو اپنی اسلامی سلطنت کا حصہ بنایا. فوجی مہمات کے ساتھ ساتھ سلطان محمد فاتحؒ نے عثمانی سلطنت میں علوم و فنون کے فروغ پر بھی بہت توجہ دی. یہ کہا جا سکتا ہے اور یہ کہنا حق بجانب بھی ہو گا کہ ترک قوم اور ترکی میں آج جو تعلیم کا فروغ نظر آتا ہے ، اس میں عثمانی حکمرانوں اور خصوص بالخصوص سلطان محمد فاتحؒ کا بڑا کردار ہے.سلطان محمد فاتحؒ نے 6 ربیع الاول 886 ہجری (3 مئی 1481ء) میں اکیاون سال کی عمر میں وفات پائی. قسطنطنیہ میں مسجد کے احاطے میں سلطان کی تدفین……

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: