اداس دل کی اداس داستاں – سحر نصیر

آج دل بہت اداس ہے۔ایسا لگ رہا ہےجیسے سینے سے نکل کر منہ سے ہوتا ہوا باہر آجائے گا اور زمین پرگر کر ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے گا۔جیسے اگلا آنے والا سانس ہلک میں پھنس گیا ہے نہ لیا جا رہا ہے نہ اگلا جارہا ہے۔ درد کی شدت اتنی ہے کہ لگتا ہے کہ کسی بھی لمحے روح جسم کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ دل کر رہا ہے کسی ویرانے میں جا کر زور زور سے چیخوں چلاوں کہ اب بس ہو گئی اور یہ اذیت برداشت نہیں ہو رہی۔

مجھے لگتا تھا میں بہت مضبوط ہوں کوئی بھی طوفان مجھے میری جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔ دنیا کہ سامنے ایک مضبوط لڑکی جو سب کے دلوں کا حال جان کر انکا مرہم بنتی ۔ دوستوں کے ساتھ ہنستی مسکراتی چہچہاتی ، تتلیوں کی طرح ایک پل یہاں تو دوسرے پل کہیں اور ارد گرد کے لوگوں کی مسکراہٹیں جیسے اسکے دل کا سکون تھیں۔ اسے لگتا تھا کہ شاید اس دنیا میں اذیت میں بس وہی ہے باقی تو سب خوش آباد ہنستے مسکراتے ہیں ۔

مگر آج اچانک اس سچائی سے پردہ اٹھا اور اسکی آنکھیں جو کبھی کسی کے سامنے اشک بار نہیں ہوئی تھیں چیکھ چیکھ کر اپنی داستاں سنانے لگی ۔ وہ جھوٹا محل جو اس نے اپنے ارد گرد بنایا ہوا تھا آج ٹوٹ کر کرچی کر چی ہوگیا ۔ وہ مضبوط لڑکی آج خود کو نہیں سمبھال پائی۔

ظہر کی نماز میں سجدے مں گرتے ساتھ ہی اسکے لبوں سے ایک لفظ بھی خود کے لیے نہ نکلا وہ اپنے رب کے سامنے سر جھکا چکی تحی اپنے آپ کو اتنا بے بس شاید اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ اسکا دل رو رہا تھا مگر زباں سے ایک لفظ بھی ادا نہ ہو پارہا تھا۔ اس کے ذہن پر صرف ایک ہی سحر طاری تھا اپنے رب سے فریاد کرنے کا۔ وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔ ساتھ نماز پڑھتی ہوئی اسکی دوست کو توشاید گمان بھی نہیں تھا کہ اس پر کیسی آفت آن ٹوٹی تھی۔ وہ سجدے میں گری بس دل ہی دل میں یہ فریاد کر رہی تھی کہ رب ان تکلیفوں کو ختم کر دے کوئی رستہ نکال جس سے یہ اذیتیں بہت دور ہو جائیں اور دلوں کو سکون آجائے مگر کتنی عجیب بات تھی وہ اپنے رب کے سامنے اپنے لیے نہیں رو رہی تھی وہ ہر اس شخص کے لیے غمگین تھی جسکا دل تکلیف میں ہے جو اپنی زندگی کی پریشانیوں سے ہار مان چکا ہے۔وہ بس انکا سکون چاہتی تھی آج اس نے خود کے لیے کچھ نہ مانگا بس غمگین دلوں کی مرہم اپنے رب سے مانگتی رہی۔

ایک عجیب سا قہر اس پر برس رہا تھا کام کرتے ہوئے بھی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کسی بھی وقت چیخ پڑئے گی اسکے اند رکی تکلیف ایک خوفناک سایہ بن کر اس کے سامنے کھڑی ہو جائے گی اوروہ اسکا مقابلہ نہیں کر پائے گی اور اپنے آپ سے ہی آج ہار جائے گی۔

آج ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے ارد گرد سے گذرنے والے ہر شخص کی تکلیف محسوس ہو رہی ہے۔ وہ ہنستی آنکھیں جو اپنا درد چھپا رہی ہے، وہ باپ جو تیز دھوپ میں کھڑا اپنے بچوں کی ایک وقت کی روٹی کا انتظام کر رہا ہے، وہ عورت جو ہر ستم چپ چاپ اپنے بچوں کی خاطر خود پر سہہ رہی ہے، ہ بیٹا جو ماں باپ کو بوڑھا ہوتا دیکھ رہا ہے مگر انکے لیے کچھ نہیں کر پا رہا، وہ ٹوٹے دل جو کسی کی یاد میں افسردہ ہے، وہ مجبور انسان جو اپنی پوری کوشش کے بعد بھی اپنی زندگی بہتر نہیں کر پا رہا۔ وہ بیٹی جو سارے غم اپنے دل میں چھپا رہی ہے۔
ہر غم جیسے اسے آج اپنا سا لگ رہا تھا۔ایسا لگ رہا تھا کہ ان تکلیفوں کے آگے اسکی اپنی تکلیف کچھ نہیں وہ اپنا دکھ بھول چکی تھی اسکے دل کو بے چینی تھی کہ کیسے ان سب کی تکلیفوں کو چھین کر وہ اپنے اندر انہیں سمو لے انہیں انکی خوشیاں واپس کرا دے وہ کیسے اس سماج سے ان تکلیفوں کو کھینچ کر باہر کر دے۔

آج پہلی بار ایسا لگ رہاتھا جیسے اسکے پاوں سے زمین نکل چکی ہے وہ اپنے آپ سے آنکھیں نہیں ملا پا رہی تھی۔ خود کو خود سے ندامت ہو رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے اس سے بڑا گنہگار اس دنیا میں کوئی نہیں۔وہ بس سکوون چاہتی تھی ان سب کے لیے جو غمگین ہیں آج اس نے خود کے لیے کچھ نہ مانگا بس اپنی ساری دعائیں دوسروں ک حصے میں ڈال دیں ۔ وہ کہیں نہ کہیں اب مطمئن تھی کہ میرے اللہ جی سب دکھی دلوں کو سکون دے دیں گے۔ اور اسی یقین کے ساتھ اس نے خود سے وعدہ کیا کہ وہ اب اپنی تکلیفوں کی بجائے ہر اس شخص کی تکلیف کا مرہم بنے گی جو اپنے آپ سے تنگ ہے۔تاکہ اپنے رب کے سامنے سر خرو ہو سکے۔
شکوے آنکھوں سے جھلک پڑئے
ورنا ہم بھی انا کے بادشاہ ٹہرے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: