رسول اللہﷺ اور بچہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ میں جا رہے تھے راستے میں بچے کھیل رہے تھے رسول اللہﷺ جب انکے پاس سے گزرے تو اسلام وعلیکم کہا بچوں نے پیار سے جواب دیا کچھ آگے بڑھے تو ایک بچہ اداس اکیلا بیٹھا ہوا تھا جیسے بھرے میلے میں ایک انسان تن تنہا کھڑا اپنے دکھ رو رہا ہو، افسردگی کے طوفان کو رسول اللہﷺ نے معصوم پھول چہرے میں محسوس کیا تو اس بچے کے پاس گئے اور فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے تم کیوں اتنے پریشان ھو یا رسول اللہﷺ میں یتیم ھوں میرے سر پہ باپ کا سایہ نہیں جو مجھے باپ کا سایہ مہیا کر سکے جو مجھے اس عید والے دن نئے کپڑے دے سکے اور ماں نہیں ہے جو مجھے ماں کی ممتا محسوس کرا سکے اسلئے سب سے الگ یہاں اداس بیٹھا اپنی قسمت پہ آٹھ آٹھ آنسو بہا رہا ہوں” رسول اللہﷺ نے اسکو ساتھ لیا اور اپنے گھر لے گئے،، عائشہ رضی اللہ کو آواز دی حمیرا اس بچے کو اچھے سے تیار کردو ” حضرت عائشہ رضی اللہ نے بچے کو نہلایا رسول اللہﷺ اپنی چادر دو حصوں میں پھاڑ دیتے ھیں ایک کا بچے کے لئے تہہ بند بنا دیتے ہیں۔

دوسرے حصے کو اسکے بدن سے لپیٹ لیتے ہیں سر پہ عائشہ رضی اللہ نے تیل ڈالا بال کنگھی کئے بچے کو رسول اللہﷺ نے اور عائشہ رضی اللہ نے مل کر خوب پالش کر کہ چمکا دیا، پھر رسول اللہﷺ نے اسکو پکڑ لیا اور اپنے کندھوں پہ سوار کیا،، اور فرمایا آج تمہاری سواری ہم بنے گے، رسول اللہﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو صحابہ کرام اجمعینؓ نے ایک انجان بچے کو رسول اللہﷺ کے نبوت والے کندھوں پہ بیٹھا دیکھا تو حیران ہوے، رسول اللہﷺ منبر پہ بیٹھے تو وہ بچہ منبر سے اتر کر زمین پہ بیٹھ گیا،، یعنی یہ اس بات کی گواہی ہے کہ بچے بچے کو علم تھا کہ منبر پہ موجود ہستی عظیم کون ہے اور اسکی تعظیم کیسے کرنی ہے، رسول اللہﷺ نے بچے کو واپس پکڑ کر منبر کے اوپر اپنی جھولی میں بٹھا دیا ۔

اور سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوے فرمایا، جو شحص کسی یتیم کی کفالت کرے گا اور شفقت سے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرے گا تو اس بندے کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئے گے اللہ پاک اسکے اتنے گناہ معاف کردے گا رسول اللہﷺ نے جب یہ فرمایا تو وہ بچہ رونے لگا تو اللہ کے رسولﷺ نے پیار سے مسکرا کر فرمایا کیا تو اس پہ خوش نہیں کہ محمدؐ تیرا والد ہے اور عائشہؓ تیری اماں فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ وَرُوْحِیْ وَقَلْبِیْ عَلـٰی رَسُوْلُ اللّٰ ﷺ (بحوالہ بخاری شریف)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: