قاضی ابو یوسف کی حق گوئی

فضل بن ربیع امام ابو حنیفہ کے شاگرد قاضی ابو یوسف کے پاس ہارون رشید کی طرف سے بحیثیت گواہ حاضر ہوا لیکن قاضی صاحب نے اس کی گواہی کی تردید کی اور قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔

خلیفہ ہارون رشید نے پوچھا : فضل کی گواہی کو آپ نے کیوں قبول نہیں کیا ؟ قاضی ابو یوسف : میں نے اسے ایک دن آپ کی مجلس میں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ وہ آپ کا غلام ہے ، چنانچہ اگر وہ اپنے قول میں صادق ہے تو اس کی شہادت قابل قبول نہیں ، کیونکہ بقول خود وہ غلام ہے اور اگر وہ اپنے قول میں جھوٹا ہے تو اس کی شہادت ایسی صورت میں بھی ناقابل قبول ہے کیونکہ جب وہ آپ کی مجلس میں جھوٹ بولنے کی کوئی پرواہ نہیں کرتا تو بدرجہ اولیٰ مجلس قضا میں بھی جھوٹ کی پرواہ نہیں کرے گا ۔ خلیفہ نے جب یہ کلام سنا تو قاضی ابو یوسف کو معذور اور گردنا اور اس فیصلے پر ان کی تائید کی ۔ یہ فضل بن ربیع بی بن یونس بن محمد ہے ،جو ہارون رشید اور محمد امین کا حاجب وزیر تھا ۔ اس کا والد منصور اور مہدی کا وزیر تھا اس کی پیدائش 140 ہجری  میں ہوئی اور وفات 207 میں ہوئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: