خود کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ لیا

خود کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ لیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنوں بنو قریظہ کی غداری کے سبب ان کا محاصرہ کیا تو آپ نے یہودیوں کے قلعے میں حضرت ابو لبابہ رفاعہ بن عبدالمنذ رضی اللہ تعالی عنہ کو بھیجا تاکہ وہ یہودیوں سے مذاکرات کریں شاید یہودی اللہ تعالی کا فیصلہ تسلیم کرنے کی حامی بھر کرقلعے سے  نیچے اتر آئیں ۔

جب حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی یہودیوں کے پاس گئے تو ان کے بچے، بوڑھے اور عورتیں رو رہی تھی ۔ یہودیوں نےحضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا: آپ کو معلوم ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ کون سا معاملہ کرنے والے ہیں ؟ حضرت ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی گردن کی طرف اشارہ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں قتل کرنے والے ہیں ۔ اس کے بعد وہ قلعے  سے نکلے ہی تھے کہ انہیں ہوش آیا کہ ان سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز افشا ہو گیا ہے اور یوں ان سے اسلام اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں خیانت سرزد ہو گئی ہے ،چناچہ وہ فورن مسجد نبوی میں گئے اور خود کو ایک ستون سے باندھ لیا اور کہا:اللہ کی قسم۱ ہم نے خود کو نہیں کھول سکتا اور نہ کھانے پینے کا مزا چکھ سکتا ہوں تاکہ اللہ تعالی میری توبہ قبول فرما لیں ۔ پھر اس کے بعد حضرت ابو لبابہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ سات دنوں تک کچھ کھائے پئے بغیر ستون سے بندھے رہے ۔اس دورا آپ کی صاحبزادی آ کر مسجد کے ستون سے آپ کو نماز اور بشری حا جات کیلئے کھول دیا کرتی تھی۔

جب آپ بھوک پیاس کی تاب نہ لا سکے تو ایک دن غش کھا کر گر پڑے ۔ پھر اللہ تعالی نے آپ کی توبہ قبول فرمائی ۔  لو گوں نے جب قبولیت توبہ کے بارے میں بتایا تو آپ نے کہا۔ اللہ کی قسم۱ میں خود کو زنجیروں سے اس وقت تک آزاد نہیں کر سکتا جب تک کہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مجھے نہ کھولیں ۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کی زنجیر کھول ۔ ابن ہشام نے ابو لبابہ رفاعہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نام بشیر لکھا ہے ۔ بیعت عقبہ کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نقیب مقرر کیا تھا ۔ اور غزوہ بدر اور غزوہ سویق کے مواقع پر ان کو مدینہ میں اپنا نائپ مامور کیا ۔وہ غزوہ احد اوربعد کے تمام غزوات میں شریک رہے۔ فتح مکہ کے وقت بنو عمرو بن عوف کا پرچم ان کے ہاتھ میں تھا ۔ابو لبابہ رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ تبوک کے موقع پر سات ،آٹھ یا نو افراد کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے ۔ بعد میں انہیں ندامت ہوئی تو انہوں نے اپنے آپ کو ستون سے باندھ لیا حتیٰ  سورہ توبہ کی آیات 102 کے مطابق ان کی توبہ قبول ہوئی ۔ابو لبابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں فوت ہوئے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: