امانت میں خیانت – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

سوال :
کسی خاتون کے پاس امانت کی رقم رکھی ہو اور اسے کوئی انتہائی ضرورت پیش آجائے ، جیسے گھر کا کوئی فرد سخت بیمار ہوجائے اور اسے ہاسپٹل میں داخل کرنا پڑ جائے تو ایسی ناگزیر حالت میں کیا امانت کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟
جواب :
قرآن اور حدیث میں امانت کی پاس داری پر بہت زور دیا گیا ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا (النساء:58)
” اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو _”
امانت میں خیانت کرنے والوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ نے سخت وعید سنائی ہے _ آپ اپنے ہر خطبے میں فرمایا کرتے تھے :
لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ (احمد :12383)
” جو شخص (مرد یا عورت) امانت کی پاس داری نہ کرے اس کے ایمان کا کوئی اعتبار نہیں _”
کوئی شخص کسی کے پاس اپنی کوئی رقم رکھوائے تو جس کے پاس رقم رکھوائی جائے ، ضروری ہے کہ وہ اس کے پاس جوں کی توں محفوظ رہے _ یہی امانت ہے _ اس میں ذرا بھی تصرّف کرنا خیانت کے دائرے میں آجاتا ہے _ رقم رکھوانے والے کو پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اس کی رقم محفوظ ہاتھوں میں ہے ، اسے جب بھی ضرورت ہوگی مل جائے گی _ وہ اپنی رقم طلب کرے تو اسے پتہ چلے کہ جس کے پاس رکھوائی گئی تھی اس نے خرچ کرلی ہے ، اس سے اس کا اعتماد مجروح ہوگا ، رقم خرچ کرنے والے کو شرمندگی ہوگی اور دینی اعتبار سے بھی یہ غلط عمل ہے _
کسی عورت کے پاس امانت کی کوئی رقم رکھی ہوئی ہو اور اسے کوئی سخت ضرورت پیش آجائے ، تو اسے حتیٰ الامکان کوشش کرنی چاہیے کہ اس امانت کی رقم میں تصرّف نہ کرے اور کسی دوسرے ذریعے سے اپنی ضرورت پوری کرے _ دوسرے ذریعے سے انتظام نہ ہوپارہا ہو تو جس کی امانت اس کے پاس ہے اس سے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کرے _ آج کل رابطہ کے ایسے ذرائع موجود ہیں جن سے فوراً اجازت لی جاسکتی ہے _ اگر کسی وجہ سے اجازت نہ لی جاسکے اور رقم خرچ کرلی جائے تو کوشش کی جانی چاہیے کہ خرچ کی گئی رقم کا جلد از جلد انتظام کرلے اور بہ طور امانت اسے اپنے پاس محفوظ کرلے _
[ شائع شدہ : آن لائن ماہ نامہ ہادیہ ، مئی 2021 ]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: