دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟

جب کوئی شخص اللہ عزوجل کے آگے دعامانگتے ہوئے رو پڑتا ہے تو اس کا دریائے رحمت جو ش میں آجاتا ہے اور اللہ عزوجل کی ذات یہ فرماتی ہے کہ رونے والی آنکھ اور پھیلا ہوا ہاتھ میرے دربارِ رحمت سے خالی جائے تو مجھے شرم آتی ہے

” لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ جب ہم دعا کرتے ہیں ، نہ ہماری حالت اضطرار ہوتی ہے نہ یقین کامل ہوتا ہے نہ آنکھ سے آنسو ٹپکتا ہے ۔
بہر حال ہمیں اس بات پر عمل کرنا چاہیے جو سرور کائنات حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرما یا جس کامفہوم یہ ہے کہ : ” دعا سے پہلے درود شریف پڑھنا اور اللہ عزوجل کے اچھے ناموں کے ذریعے دعا کرنا اپنے گناہوں کو سامنے رکھ کر دعا کرنا تہجد کے وقت دعا کرنا رو رو کر دعا کرنا افطار کے وقت دعا کرنا”دعا قبول ہونے کا ایک آزمودہ عمل میں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں یہ عمل بزرگانِ دین کا مجرب ہے ۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ رات کے وقت تقریباً دو بجے اٹھو ، جب دنیا آرام کی نیند سورہی ہو تو آپ نماز تہجد ادا کرو بعد از نماز تہجد اس وظیفہ کو کریں: تین بار سورت یسٰین کو پڑھیں اور پانچ سو مرتبہ ان اسمائے مبارک کا ورد کریں: بِسْمِ اللہِ الرَّ حْمَنِ الرَّ حِیْمِ ” یَا اللہُ یَا سَمِیْعُ ” اس وظیفہ کے اول وآخر درود ابراہیمی (11) بار تلاوت کریں اور تا حا صل مراد وظیفہ جاری رکھیں ۔ انشاءاللہ عزوجل ہر جائز مقصد و حاجت پوری ہوگی۔اسلام میں دُعا کی بہت بڑی فضیلت واہمیت آئی ہے۔

لیکن عام طور پر لوگ دعا کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری مساجد میں جہر کے ساتھ اجتماعی طور پر لمبی لمبی دعائیں ضرور پڑھی جاتی ہیں اور بڑے بڑے اجتماعوں اور جلسوں میں بھی کثرت دعا کی گونج سنائی دیتی ہے مگر قبولیت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔ دعا کے آداب کیا ہیں اور اس کی قبولیت کے شرائط کیا ہیں؟ ان باتوں کو جاننے سے لوگوں کو کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے ۔ بلکہ وہ صرف الفاظ کی رٹ لگانے کو دعا سمجھتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اس طرح کی تمام دعائیں اللہ کے نزدیک شرف قبولیت حاصل نہیں کرپاتی ہیں۔ اور بے اثر وبے نتیجہ ثابت ہوتی ہیں ۔ قرآن وحدیث کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اوربن مانگے بھی دیتا ہے جو اس کے احکام پر پابندی سے عمل کرتے ہیں اور اس کی آخری کتاب – قرآن – کو پڑھتے ہیں اور اس کی ایک ایک آیت پر غور وفکر کرتے ہیں ۔ اگر ایسے لوگوں کو دعا مانگنے کا موقع نہ بھی مل جائے تب بھی اللہ تعالیٰ ان کو دعا مانگنے والوں سے بھی زیادہ دیتا ہے ۔ اس سلسلہ میں انتہائی غور طلب حدیث اس طرح آئی ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: