سفیر اور مسلمانوں کا بادشاہ

ایک دفعہ روم سے سفیر آگیا مدینہ میں پہنچ کر پتہ کیا کے مسلمانوں کا بادشاه عمر کہاں ہے ؟
لوگوں نے کہا
وہ تو بیت المال کے اونٹ چرانے جنگل میں گئے ہوئے ہیں ۔ روم کا سفیر حیران ہوا کے وقت کا حاکم ایسا بھی ہوتا ہے کیا ؟

عمر فاروق سے کچھ ملکی معاملات پہ بات کرنی تھی سفیر ڈھونڈتے ہوئے ایک درخت کے پاس پہنچا ، دیکھا کہ عمر فاروق درخت کے نیچے لیٹ کر آرام فرما رہے تھے ، مگر جنگل کا ایک شیر ہے جو عمر فاروق کا پہرا دے رہا ہے ، روم کے سفیر پر جب شیر کی نظر پڑی ، تو شیر کے دھاڑنے کی آواز سنائی دی ۔ روم کا سفیر چلانے لگا ، اتنے میں عمر فاروق کی آنکھ کھل گئی پوچھا : کیا بات ہے کیوں چلا رہے ہو ؟
سفیر نے کہا : واہ عمر تیری حکمرانی کے جنگل کے شیر بھی تیری ڈیوٹی دے رہے ہیں ۔

اس پر عمر فاروق نے ایسا جملہ کہا کہ سونے کی تار سے لکھا جائے ، پھر بھی کم ہے فرمایا
جو بھی ہمارے نبی محمّد مصطفیٰ ﷺ کی غلامی اختیار کرتا ہے ، اسکی قدر جنگل کے جانور بھی پہنچانتے ہیں ۔ روم کے سفیر نے بات چیت کی اور چلا گیا ۔ دوسرے دن صبح ہوئی ، عمر فاروق پانی کے مشکیزے بھر بھر کے غریبوں کے دروازے پہ پانی پہنچا رہے تھے ، تو نوکروں نے کہا کہ امیر المؤمنین خزانے سے ہم بھی تنخواہ لیتے ہیں ، آپ حکم کرو ، ہم پانی بھر دیتے ہیں ۔

اس پہ عمر فاروق نے کہا : برابر آپ ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ مگر کل روم کا سفیر آیا ، اس نے میری تھوڑی تعریف کردی ، اس سے میرے نفس میں کچھ اکڑ آگئی ، اب غریبوں کا پانی بھر کے ، اپنے نفس کو سزا دے رہا ہوں کہ عمر تو تو بادشاه نہیں تو تو غریبوں کا غلام ہے ۔
ماشاءاللہ حضرت عمؓر کتنے اچھے حکمران تھے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: