منافق کی چار خصلتیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چار خصلتیں ہیں جس میں یہ ہو وہ منافق ہوتا ہے خواہ وہ نماز ادا کرتا ہو روزہ دار ہو اور سمجھتا ہو کہ وہ مومن ہے۔ 1۔ جس وقت وہ بات کرے تو کذب بیانی کرے۔

2۔ جب وہ کوئی وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کا مرتکب ہو۔ 3۔ جب اس کو امین بنایا جائے تو وہ خیانت کا مرتکب ہو۔4۔ جب وہ جھگڑا کرے تو بد کلامی کا ارتکاب کرے۔ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ جب وعدہ کرے تو غدر کرے مرادیہ ہے کہ توڑ دے حضرت ابو سعید خدری کی روایت کردہ حدیث پاک میں ہے کہ دل چار ہوتے ہیں ۔ 1۔ صاف دل اس کے اندر چراغ روشن ہے یہ دل مومن کا دل ہوتا ہے۔ 2۔ خراب دل اس کے اندر ایمان اور نفاق ہے ایمان کی مثال اس طرح ہے کہ جس طرح سبزے کی سیرابی میٹھے پانی کے ساتھ ہو اور وہ خوب بڑھے پھولے اور نفاق کی مثال اس طرح سے ہے ۔ جیسے ایک پھوڑا ہوا اس میں پیپ اور گندا پانی مزید بڑھتا رہے بس جو مادہ غالب رہ گیا وہی حال دل کا ہوا۔ دیگر روایات میں اس طرح سے الفاظ آئے ہیں جو اس پر غالب آیا اسی کا غلبہ ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس امت کے زیادہ تر منافقین قاری حضرات ہیں ۔ دیگر ایک حدیث پاک میں آیا ہے کہ میری امت کے اندر شرک صفا پہاڑ کے اوپر چیونٹی کے چلنے سے بھی بڑھ کر اخفا میں ہے۔

حضرت حذیفہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے دوران ایک شخص بات کرتا تھا تو اس کے سبب ہم اس کو اس کے مر جانے تک منافق گردانتے تھے جبکہ آج میں تم میں سے ہر شخص سے اس طرح کا ہی کلام دس مرتبہ سن رہا ہوں۔ اور کسی کو اس کی کوئی حیا اور پروا ہی نہیں ہے ۔ ایک عالم نے کہا ہے کہ نفاق کے زیادہ قریب وہ ہے جو سمجھتا ہو کہ میں نفاق سے پاک ہی ہوں۔ حضرت حذیفہ نے فرمایا ہے کہ زمانہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود منافقوں سے زیادہ منافقین آج ہیں ۔ اس وقت تو وہ پوشیدہ رہتے چھپتے تھے ۔ جبکہ آجکل وہ کھلے بندوں پھرتے ہیں ۔ ایسا نفاق ایمان اور کمال ایمان کے منافی ہے اور یہ پوشیدہ نفاق ہے ۔ اس سے جو ڈرے وہ خلق سے دور رہا کرتے ہیں ۔ جبکہ خلق کے زیادہ قریب ہی وہ ہے جو خود کو نفاق سے پاک جانتا ہو ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: