حضرت حسن بصری اور منافق لوگ

حضرت حسن بصری سے کہا گیا کہ کہا جاتا ہے کہ آج کل نفاق کا کوئی وجود نہ ہے۔ آپ نے فرمایا اے برادر اگر منافق لوگوں کی موت واقع ہوجائے تو راستوں میں وحشت کر دو گے اس سے مراد ہے کہ تمام راستوں کو ویران کر دو یو کے راستے پر چلنے والے ہی کم سے کم ہو جائیں گے۔

اور انہوں نے یہ بھی کہا ہے یا شاید دیگر کسی کا قول ہے کہ منافقوں کے اگر سم پیدا ہو جائیں تو ہم زمین کے اوپر قدم کھتے ہوئے نہیں چل سکیں گے مراد ہے کہ اتنے زیادہ ہیں منافق لوگ۔ حضرت عبداللہ بن عمر نے ایک شخص کو سنا جو حجاج کے متعلق تنقید کرنے میں مشغول تھا تو آپ نے فرمایا تمہارا خیال کیسا ہے کہ اگر حجاج یہاں حاضر ہوں ان باتوں کو سنتا ہوا تو کیا تم یہ باتیں کرو گے اس نے کہا نہیں تو آپ نے فرمایا کہ اس کو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں منافقت جانتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے دنیا میں جو شخص دو زبانوں والا ہوں یعنی دورخا شخص ہو اس کو آخرت میں بھی اللہ دوزبانوں والا کر دے گا یعنی اس کی یہ سزا ہوگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے لوگوں میں بدترین شخص دورخا آدمی ہوتا ہے جو ایک کے ساتھ ایک رخ سے پیش آتا ہے اور دوسرے کے ساتھ وہ دوسرے رخ کے ساتھ پیش آئے ۔ حضرت حسن سے کسی نے کہا ہے کہ ایک قوم کا گمان ہے کہ ہم کو نفاق کا خدشہ کوئی نہیں ہے آپ نے فرمایا واللہ اگر مجھ کو معلوم ہو جائے کہ میں نفاق سے بری ہوں تو یہ بات مجھے ساری دنیا کے سونے سے بھی محبوب تر ہے ۔ حضرت حسن کا قول ہے کہ زبان اور دل کے ظاہر اور باطن اور اندرون اور بیرون میں فرق ہے ۔ ایک شخص نے حضرت حذیفہ سے عرض کیا کہ مجھے خدشہ ہے کہ منافق نہ ہو چکا ہوں آپ نے فرمایا اگر تو نفاق سے خوفزدہ نہ ہوتا تو منافق ہوتا کیونکہ منافق شخص نفاق سے نہیں ڈرتا ۔ ابن ملیکہ نے فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صد اور 30 اور دیگر ایک روایت کے مطابق صد اور پچاس صحابہ کو میں نے پایا ہے اور وہ تمام ہی نفاق سے خوفزدہ تھے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: