حضرت سری سقطی اور پرندے

حضرت سری سقطی نے فرمایا ہے آدمی اگر ایک باغ میں داخل ہو جائے جس کے اندر تمام قسم کے پرندگان موجود ہوں اور ہر پرندہ اس کے ساتھ اپنی ایک زبان میں بات کرے گا اللہ کے دوست پر سلام ہو۔ انہیں دیکھتے ہوئے اس کے نفس کو سکون حاصل ہو تو وہ شخص ان کے ہاتھوں میں قید شدہ ہے ایسے اخبار اور آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ کتنے گہرے امور تک نفاق ہوتا ہے .

اور شرک کے کچھ امور کتنے پوشیدہ ہوا کرتے ہیں اس سے بے خوف کبھی نہیں رہنا چاہیے۔ کبھی کبھی حضرت حذیفہ سے حضرت عمر دریافت کیا کرتے تھے کہ کیا میرا ذکر منافق لوگوں میں تو نہیں ہوا ہے۔ حضرت ابوسلیمان نے فرمایا ہے کہ ایک حکمران کی ایک بات میں نے سنی جو کہ غلط بات تھی میں نے نیت کر لی کہ اس کو رد کرو پھر مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ حکمران مجھے قتل کر دینے کا حکم صادر کر دے گا میں موت سے تو نہ ڈرتا تھا البتہ یہ خدشہ تھا کہ جب میری روح نکلے گی تو میرے دل میں خلق کے واسطے نمود و نمائش نہ کہیں آجائے۔ لہذا میں باز رہا یہ ایسا نفاق ہے جو ایمان کی حقیقت اور صداقت ایمان کے کمال اور اس کی صفائی کے برعکس ہے مگر حقیقی ایمان کے برعکس نہیں ہے بس نفاق دو قسم کا ہے۔ 1۔ ایک نفاق ہے جس کے باعث انسان دین سے ہی خارج ہوجاتا ہے اور کافروں کے ساتھ شمار ہو جاتا ہے اور ہمیشہ دوزخ میں رہنے والوں کے ساتھ مل جاتا ہے. 2۔ دوسرا نفاق یہ ہے کہ جو آدمی کو ایک عرصہ طویل کے لئے دوزخ میں ڈالے جانے کا باعث بن جاتا ہے اس کے علاوہ درجات میں کمی ہو جانے کا موجب ہوتا ہے اور صدیقین کے درجے سے اس کے درجے کو کم کرا دینے کا باعث ہوتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: