حضرت سلیمان بن جابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے

حضرت سلیمان بن جابر فرماتے ہیں کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے گذارش کی کہ مجھے کوئی سا نیک کام بتائیں جس سے میں فائدہ حاصل کروں آپ نے فرمایا نیکی کی کوئی بات بھی معمولی مت سمجھو اگر کسی پانی پینے والے شخص کے برتن میں اپنے ڈول سے پانی ہی ڈالو اور

اگرچہ اچھے چہرے کے ساتھ اپنے بھائی سے ہی ملاقات کرو اور جب وہ لوٹ کر جائے تو اس کی غیبت مت کرو۔ حضرت براء سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب فرمایا یہاں تک کہ گھروں میں موجود عورتوں کو بھی سنا دیا ارشاد فرمایا اے لوگو جو زبانی ایمان لائے ہو اور دل سے ایمان نہیں لائے ہو تم مسلمانوں کی غیبت مت کرو اور ان کے پردے یعنی رازوں کی جستجو مت کرو۔ کیوں کہ جو شخص اپنے برادر کے پردے کے درپے ہو گا اللہ اس کے راز کے درپے ہوگا اور جس کے راز کا اللہ پیچھا فرمائے اس کو اس کے گھر کے اندر ہی رسوا کر دے گا۔ نقل کیا گیا ہے کہ موسی علیہ السلام کو اللہ نے وحی فرمائی کہ غیبت سے توبہ کرکے جو مرے گا وہ سب کے بعد جنت میں جائے گا اور جو غیبت پر مصر رہتے ہوئے مر گیا وہ دوزخ کے اندر سب سے پیشتر داخل ہوگا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم فرمایا کہ روزہ رکھو اور فرمایا کہ کوئی بھی شخص تم میں سے روزہ افطار نہ کرے تاآنکہ میں اجازت نہ دے دو بس لوگوں نے روزہ رکھ لیا شام ہوگئی تو ایک آدمی آتا تھا اور عرض کرتا تھا۔

یارسول اللہ میں روزہ سے ہوں آپ اجازت فرمائیں کہ میں روزہ افطار کر لو آپ اس کو اجازت عطا فرماتے تھے اس طرح ایک ایک شخص آتا رہا بالآخر ایک آدمی نے عرض کیا میرے اہل خانہ میں دو لڑکیاں ہیں نوجوان۔ انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہے وہ آپ کے پاس حاضر ہونے سے شرما رہی ہیں آپ ان کے لئے اجازت فرمادیں کہ وہ روزہ کھول لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا رخ موڑ لیا اس نے بات کو پھر دہرایا تو آپ نے پھر رخ پھیر لیا۔ اس نے پھر وہی بات کی تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان لڑکیوں نے روزہ نہیں رکھا وہ کس طرح کی روزے رکھنے والی ہیں تمام دن تو وہ خلق کا گوشت کھاتی رہی ہیں۔ تم چلے جاؤ اور ان کو حکم کرو کہ اگر انہوں نے روزہ رکھا ہے تو وہ قے کرے پھر وہ آدمی ان کے پاس آ گیا اور ان کو ایسے ہی بتا دیا انہوں نے جب قے کی تو قے میں خون اور چھیچھرے برآمد ہوئے۔ اس آدمی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر بتا دیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ اگر یہ مواد ان کے شکموں میں رہ جاتا تو ان دونوں کو آگ ہی کھاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: