جو شخص غیبت کرے

قرآن کریم میں اللہ نے غیبت کو بہت مذموم فرمایا ہے اور جو شخص غیبت کرے اس کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے والا فرمایا ہے جیسے کہ فرمایا گیا ہے۔
( اور تم میں سے بعض کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی یہ گوارا کرتا ہے کہ وہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے گا پس اس سے تم کو کراہت ہوتی ہے)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے مسلمان تمام بھی دوسرے مسلمان کے واسطے حرام ہے اس کا خون اس کا مال اس کی عزت اس کی غیبت کرنا عزت پر زد ہوتی ہے جب کہ عزت کو اللہ نے مال اور خون کے ساتھ جمع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔

حضرت ابوبرزہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ایک دوسرے سے حسد مت کرو نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ بغض ہی رکھو ایک دوسرے کے عیب جوئی مت کرو دوسرے کے عیب تلاش کرنے یا جاسوسی کرنا ایک دوسرے سے تعلق منقطع مت کرو ایک دوسرے کی غیبت کا ارتکاب نہ کرو اور اے اللہ کے بندو تم آپس میں بھائی بھائی ہو جاؤ۔

حضرت جابر اور حضرت ابو سعید روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ غیبت سے بالخصوص خود کو بچاؤ اس لئے کہ یہ زنا سے بھی زیادہ بری ہے کیونکہ آدمی کبھی زنا کر بیٹھے تو وہ بعد میں توبہ کر لیتا ہے اور اس کی توبہ کو اللہ قبول فرما لیتا ہے جب کہ غیبت کرنے والے کو اس وقت تک معافی نہیں ہوتی جب تک وہ شخص معاف نہ کر دے جس کی غیبت کی گئی ہو۔

حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس شب مجھے معراج کرائی گئی تھی اس شب مجھے اس طرح کے اقوام پر سے لے جایا گیا جو اپنے چہرے اپنے ناخنوں سے چھیلتے تھے میں نے دریافت کیا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ ہے جو ایک دوسرے کی غیبت کیا کرتے تھے اور ان کی عزتوں کے پیچھے پڑے رہتے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: