کامل ایمان اور سچے لوگ کون ہیں

یاد رکھو کامل ایمان یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ایمان ہو اللہ کی توحید پر اس کا یقین ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین پر اور جو جو اعمال کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے وہ پابندی سے سرانجام دے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔

انما المؤمنون الذین امنوا باللہ ورسولہ ثم لم یرتابوا وجاھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ اولئک ھم الصدقون۔ ( بے شک مومن وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ پھر انہوں نے شک نہ کیا اور اپنے اموال اور جانوں کے ساتھ انھوں نے فی سبیل اللہ جہاد کیا وہی ہیں جو سچے ہیں)۔ علاوہ ازیں ارشاد الہی ہے۔ ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر والملئکۃ والکتب والنبین۔ ( اور لیکن نیکی یہ ہے کہ جو ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور انبیاء پر)۔ اور ساتھ ہی دیگر شرطیں لگا کر بیس شرائط کر دیں مثلاً وفاۓ عہد اور شدائد پر صابر رہنا نیز اللہ کا ارشاد ہے۔ اولئک الذین صدقوا۔ یہی ہے وہ لوگ جنہوں نے سچ کہا” دیگر ایک مقام پر اللہ نے فرمایا ہے۔ ” اللہ ان لوگوں کو رفعت عطا فرماتا ہے تم میں سے جو ایمان لے آئے اور جنہیں علم حاصل ہوا ان کے بلند درجات ہیں”۔ نیز اللہ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ” تم میں سے وہ مساوی نہیں جس نے فتح سے قبل فی سبیل اللہ خرچ کیا اور جہاد کیا”۔ اور یوں فرمایا ہے۔ ” ان کے لئے تو عند اللہ اونچے درجات ہیں”۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے۔ ” ایمان ننگا ہے اس کا لباس تقویٰ ہے”۔ اوپر جو آیات اور احادیث کا ذکر ہوا ہے ان سے پتہ چل جاتا ہے کہ ایمان کا بڑا عمیق تعلق ہے اعمال کے ساتھ اور اس کا تعلق نفاق اور پوشیدہ شرک سے بریت سے بھی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: