شیطان کا اثر دیکھ رہا ہوں

نقل کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے صحابہ نے ایک شخص کے بارے میں بات کی اور اس کی انہوں نے کافی تعریف کی۔ ابھی وہاں پر ہی تھے کہ وہ شخص بھی وہاں آ پہنچا اس کے چہرے پر سے وضو کے باعث پانی کے قطرے گرتے تھے اور وہ اپنا جوتا اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تھا اس کی آنکھوں کے درمیان میں سجدے کا بھی نشان موجود تھا۔

صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں ہم ذکر کر رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے چہرے پر میں شیطان کا اثر دیکھ رہا ہوں پس وہ آدمی آ گیا اور اس نے سلام کیا اور صحابہ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تو نے جب اس جماعت کو دیکھا تھا تو کیا تیرے دل میں گمان نہیں آیا تھا کہ تجھ سے بہتر ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے اس نے جواب دیا کہ اللہ گواہ ہے یہ درست ہے۔ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سے دعا فرمائیں یا الہی میں معافی طلب کرتا ہوں اس سے جو مجھے معلوم ہے اور جو مجھے معلوم نہیں آپ سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھی ڈرتے ہیں تو آپ نے فرمایا میں کیسے بے خوف ہو سکتا ہوں جبکہ دل رحمان اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان ہے۔ جس طرح اس کی خواہش ہے وہ الٹ پلٹ کرتا ہے اللہ نے ارشاد فرمایا۔ ( اور ظاہر ہوا ان کے واسطے اللہ کی طرف سے جس کا وہ گمان بھی نہ کرتے تھے)۔ اس آیت کی تفسیر میں اہل علم نے فرمایا ہے کہ وہ ایسے اعمال کرتے تھے جن کو وہ جانتے تھے کہ نیک اعمال ہیں حالانکہ وہ برائیاں شمار ہوتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: