مسجد اقصی،ایک پرچم کی کہانی ۔ آصف محمود

مسجد اقصی کا صحن لہو ہو چکا ، اوپر نگاہ اٹھی تو قبۃ الصخراء کے ساتھ ایک نوجوان فلسطینی پر چم لہرا رہا تھا ۔ پھر مجھے نہ زخمی یاد رہے نہ شہداء ، میں اسی پرچم کے رنگوں میں الجھ کر رہ گیا ۔ دل کو کچھ ایسی کہانیاں یاد آ گئیں کہ میرا دل بھی لہو ہو گیا ۔

آئیے آپ کو یہ کہانی سناتا ہوں تا کہ آپ کا دل بھی مسجد اقصی کے صحن کی طرح لہو ہو جائے ۔ زیادہ پرانے وقتوں کی بات نہیں ، یہ 10 جون 1916 کی بات ہے ۔ تب سلطنت عثمانیہ جیسی بھی تھی قائم تھی اور القدس مسلمانوں کے پاس تھا ۔ اس روز شریف مکہ حسین بن علی اور برطانیہ کے لیفٹیننٹ کرنل ہنری مک موہن کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں عربوں نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی ۔ْ اس بغاوت کو ’الثورۃ العربیہ الکبری ‘ کا نام دیا گیا ۔ جب بغاوت کا فیصلہ ہو چکا اور اس کی جزئیات طے ہو چکیں تو اگلا مرحلہ اس عرب بغاوت اور مزاحمت کا پرچم تیار کرنا تھا ۔ یہ پرچم ایک برطانوی سفارت کار کرنل مارک سائیکس نے تیار کیا ۔ مارک سائیکس صیہونیوں کے بہت قریب تھے اور جس اعلان بالفور کے نتیجے میں اسرائیل قائم کیا گیا اس اعلان کو حقیقت بنانے میں کرنل صاحب کا بڑا اہم کردار تھا۔ سر مارک سکائیس نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف عرب بغاوت کا جو پرچم تیار کیا اس میں چار رنگ شامل تھے ۔ اس میں سیاہ ، سفید اور سبز یعنی تین رنگوں کی تین افقی پٹیاں تھیں اور ایک تکون تھی جس کا رنگ رخ تھا ۔

سیاہ رنگ عباسی سلطنت کی یادگار کے طور پر لیا گیا ، سفید رنگ کو اموی سلطنت سے نسبت دی گئی اور سبز رکنگ فاطمی خلافت کی یادگار کے طور پر رکھا گیا ۔ تکون کا سرخ رنگ ہاشمی خاندان یعنی اشراف مکہ کی نسبت سے لیا گیا یو ں سمجھ لیجیے کہ یہ رنگ شریف مکہ حسین بن علی کی ممکنہ سلطنت کے اعتراف کے طور پر چناگیا جو جو شریف مکہ اور مک موہن معاہدے کی روشنی میں سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد وجود میں آنا تھی ۔ پرچم بھی تیار ہو گیا اور بغاوت بھی شروع ہو گئی ۔ یہاں تک کہ ایک وقت وہ آیا کہ یروشلم کا محاصرہ کر لیا گیا ۔ عثمانی افواج لڑیں اور یروشلم کے اطراف میں شہید ہونے والے فوجیوں کی تعداد ایک روایت کے مطابق 25 ہزار تھی ۔ لیکن یہ افواج بے بس ہو گئیں ۔ اس بے بسی کی بہت ساری وجوہات میں سے دو وجوہات کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے ۔ پہلی وجہ عرب بغاوت تھی ۔ ایک طرف برطانوی اور اس کی اتحادی افواج یروشلم پر حملہ آور تھیں ۔ دوسری جانب عرب بغاوت نے ترکوں کی سپلائی لائن کو ادھیڑ کر رکھ دیا ۔دوسری وجہ ہندوستان سے گئے فوجی تھے جو اتنی وافر تعداد میں تھے کہ اس نے اتحادی افواج کو افرادی قوت سے بے نیاز کر دیا تھا ۔

فیلڈ مارشل اچنلک نے بعد میں اعتراف بھی کیا کہ ہندوستان کے فوجی ہمیں میسر نہ ہوتے تو ہم دونوں جنگ عظیم ہار گئے ہوتے ۔
یہاں اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہندوستان سے جانے والے صرف ہندو اور سکھ فوجی تھے تو اس غلط فہمی کو دور کر لیجیے ۔ اس کام میں مسلمان فوجی بھی پیش پیش تھے کیونکہ ہندوستان میں یہ فتوی آ چکا تھا کہ مسلم دنیا کی قیادت پر ترکوں کا کوئی حق نہیں ۔ یہ حق تو شریف مکہ کا ہے ۔ چنانچہ 11 دسمبر 1917 کو جب یروشلم مسلمانوں سے چھن گیا اور جنرل ایلن بے ایک فاتح کی حیثیت سے داخل ہوا تو فاتحین کے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ہندوستان سے تشریف لے گئے تھے اور نعرہ تکبیر بلند فرما رہے تھے اور کچھ وہ تھے جو ہندوستان سے تشریف نہیں لے گئے تھے وہیں آس پاس کے علاقوں کے عرب تھے اور ’الثورۃ العربیہ الکبری ‘ کا پرچم تھامے ہوئے تھے ۔ وہی چار رنگوں والا پرچم جس کا اوپر ذکر کیا جا چکا ہے ۔ شریف مکہ اب حجاز کے حاکم بنے اور بادشاہ حجاز کہلانے لگے تاہم ان کا خیال تھا یہ منصب ان کے لیے ناکافی ہے اور انہیں’ ملک العرب ‘ یععنی سارے عرب کا بادشاہ ہونا چاہیے تھا ۔

خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے خود کو خلیفہ قرار دے ڈالا۔ پورے چائو سے’ الثورۃ العربیہ الکبری ‘ چلانے والے شریف مکہ چند ماہ ہی حکومت کر سکے پھر جلاوطن ہوئے اور مر گئے۔ اتفاق دیکھیے کہ عرب بغاوت کے ذریعے یروشلم سے مسلمانوں کے اقتدار کے خاتمے کی روہ ہموار کرنے والا یہ شخص یروشلم ہی میں دفن ہے ۔ کیا عجب اس کی روح راتوں کو مسجد اقصی کے نواح میں بھٹکتی ہو اور دیکھتی ہو کہ میرے نامہ اعمال نے مسلمانوں کو آج کیا دن دکھائے ہیں ۔ شریف مکہ کی اولاد کا اقتدار بعد میں اردن تک محدود ہو کر رہ گیا ۔ ان کا ایک بیٹا شاہ عبد اللہ اول اردن کا بادشاہ بنا ۔ ایک روز بادشاہ سلامت مسجد اقصی میں داخل ہوئے تو ایک فلسطینی نے تین گولیاں ان کے وجود میں اتار دیں ۔ وہ جاں بحق ہو گئے ۔ یہ مسجد اقصی قانونی طور پر آج بھی اردن ہی کے زیر انتظام ہے لیکن اردن کے بادشاہ بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔ خدا جانے یہ بے بسی انہیں اپنی وہ غلطیاں یاد دلاتی ہے یا نہیں جو بعد میں اسرائیل کے قیام کا پیش خیمہ بنیں ۔

آج مسجد اقصی کا صحن لہو تھا اور قبۃ الصخرا کے ساتھ کھڑا ایک فلسطینی نوجوان فلسطین کا پرچم تھامے ہوئے تھا ۔ اس پرچم کو دیکھا تو یہ ساری کہانی یاد آ گئی کیونکہ یہ وہی پرچم تھا جو عرب بغاوت کا پرچم تھا ۔ اسی پرچم کے سائے میں برطانوی جنرل ایلن بے یروشلم پر قابض ہوا تھا ۔ اسی پرچم کے سائے میں یروشلم پر مسلمانوں کا صدیوں کا اقتدار ختم ہوا تھا ۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ جزوی تبدیلیوں کے ساتھ عرب بغاوت کا یہی پرچم آج بھی مصر ، اردن ، سوڈان ، کویت ، امارات، شام ، لیبیا اور یمن کا قومی پرچم ہے۔ْقصور سلطنت عثمانیہ کا تھا یا عرب بغاوت والوں کا ، یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اسی بغاوت نے یروشلم سے مسلمانوں کا اقتدار ختم کرانے میں اہم کردار کیا تھا ۔ آج اسرائیلی فوج مسجد اقصی میں نمازیوں پر تشدد کر رہی ہے اور مسلمان وہی پرچم تھام کر مزاحمت کر رہے ہیں جس پرچم تلے انہوں نے یروشلم سے اپنے اقتدار کا خود اپنے ہی ہاتھوں خاتمہ کیا تھا ۔ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ہمیں رلاتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: