میں روزے تو پورے رکھتا ہوں ہر عبادت کرتا ہوں بھر سکون نہیں

میں روزے تو پورے رکھتا ہوں لیکن معلوم نہیں کیوں مجھے دلی سکون نہیں ملتا، مولوی کے پاس گیا وہ پوچھنے لگے.تم روزے میں باجماعت نماز کا اہتمام کرتے ہو؟.بالکل جناب؛.پھر پوچھنے لگے.تراویح میں پورا قرآن سنتے ہو اور روزانہ تلاوت کرتے ہو؟..میں بولا.مولوی صاحب تراویح میں قرآن سننے کے علاوہ رمضان میں دو قرآن بھی ختم کرتا ہوں؛..صدقہ خیرات کرتے ہو؟..جی جی بالکل اور اس کے علاوہ مسجد مدارس میں چندہ بھی دیتا ہوں؛.
اب مولوی صاحب پورے یقین سے فرمانے لگے.تم پکے مسلمان ہو تمہارے روزے بالکل پکے ہیں، رہی بات دلی سکون کی تو یہ تمہاری عاجزی ہے؛.میں مولوی صاحب کے پاس سے گھر آگیا لیکن دل کو قرار نہ ملا، آج تراویح کے بعد گھر کے باہر ہوٹل پر بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ ایک ملنگ ٹائپ آدمیمیرے پاس بیٹھ گیا اور کہنے لگا.مجھے چائے پلا پھر تجھے تیرا جواب دیتا ہوں؛..مجھے جھٹکا لگا، اس کے لیے چائے منگوائی، چائے پی کر وہ کہنے لگا.تو پانچ وقت نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے، حج بھی کرچکا اور زکوٰۃ بھی دیتا ہے لیکن تجھے دلی سکون نہیں ملتا یہی ہے نہ تیرا مسئلہ؟.

.ملنگ سے اپنے دل کا حال سن کر میں نے عقیدت سے اس کا ہاتھ پکڑلیا مرشد بالکل یہی میرا مسئلہ ہے جس نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے، ایسا کیوں ہے؟.ملنگ نے میرے تین غریب رشتہ دار کے نام گنوائے اور پھر کہنے لگا.کیا تو نے کبھی ان کے ساتھ صلہ رحمی والا معاملہ کیا؟..اس کی بات سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ یقیناً یہ کوئی پہنچا ہوا بندہ ہے جو سب جانتا ہے تو میں پوری سچائی کے ساتھ بولا.جناب میرے اور ان کے اسٹیٹس میں زمین آسمان کا فرق ہے تو میں ان غریبوں سے میل جول رکھ کر اپنا اسٹیٹس خراب نہیں کرسکتا؛..ملنگ نے مجھے غور سے دیکھا. اچھا تیرے محلے میں ایک بوڑھے میاں بیوی رہتے ہیں جن کے دونوں بیٹے شادی کے بعد الگ ہوچکے ہیں کیا تو نے ان کی تنہائی دور کرنے کی کوشش کی یا کبھی ان سے ان کی ضرورت پوچھی؟.میں جھلاکر بولا.آپ بھی کیسی بات کرتے ہو ان دونوں کا خیال ان کے بیٹوں کو رکھنا چاہیے میں کیوں رکھوں؟.ملنگ پھر پوچھنے لگا.کیا تو تجارت اپنی پوری ایمانداری سے کرتا ہے؟..اس سوال پر میں گھوم گیا، اس سے جھوٹ نہیں بول سکتا تھا تو مجبوراً سچ بولنا پڑا.ارے جناب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ آجکل ہر کاروبار جھوٹ اور دھوکے پر ہی ٹکا ہوا ہے تو مجھے بھی ان دو کا سہارا لینا پڑتا ہے؛..میرا گول مول جواب سن کر ملنگ مسکرانے لگا.اچھا اب یہ بتا کہ کیا تو نے اپنے قول اور فعل سے کسی کو دکھ پہنچایا ہو، اور تجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا ہو پھر تو نے اس سے معافی مانگی ہو؟.

.ملنگ کا یہ سوال سن کر میں اپنی میموری چیک کرنے لگا لیکن مجھے اپنی غلطی کہیں دکھائی ہی نہیں دی بلکہ مجھے اپنا آپ صاف شفاف دکھائی دیا.جناب آپ بھی حد کرتے ہیں مجھ جیسے پکے مسلمان پر شک کررہے ہیں، میری زندگی تو الحمداللہ آئینے کی مانند صاف شفاف گزری ہے؛.ملنگ قہقہے لگانے لگا، اب مجھے ملنگ پر غصہ آنے لگا اور اسے گھورتے ہوئے اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا پانچ منٹ بعد ملنگ یہ کہہ کر چلا گیا.تو چاہے ہزار سال تک اسی طرح نمازیں پڑھتا رہے، روزے رکھتا رہے، زکوٰۃ دیتا رہے، ہر سال حج بھی کرتا رہے لیکن تجھے تب بھی سکون نہیں ملے گا،کیونکہ تو صرف عباداتی مسلمان ہے اور وہ تو ابلیس بھی تھا، اللہ کو عبادت کے ساتھ معاملاتی، اخلاقی اور حقوقی مسلمان بھی چاہیے ہوتا ہے،جو تو بالکل بھی نہیں۔۔؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: