عید کے روز

عید کے روز حضرت عمر دیکھتے ہیں کہ ان کے فرزند کی قمیض بوسیدہ ہے تو آپ کو رونا آگیا اس نے پوچھا کہ آپ کس وجہ سے روئے ہیں تو فرمایا اے بیٹے مجھے یہ خدشہ ہو گیا ہے کہ عید کا روز ہے اور تو دل شکستہ ہو جائے گا جس وقت دیگر بچے تجھے دیکھیں گے کہ بوسیدہ کرتہ زیب تن ہے وہ کہنے لگا دل تو ایسے آدمی کا ٹوٹا کرتا ہے جسے رضائے الہی حاصل نہیں ہوتی یا جس نے والدین کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہو اور میں امید رکھے ہوں میں ہوں کہ آپ کی رضاء کی وجہ سے میرے ساتھ اللہ بھی راضی ہو گا حضرت عمر نے روتے ہوئے اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگایا۔

اور اس کے حق میں اللہ سے دعا کی۔ روایت کیا گیا ہے کہ عید الفطر والے دن کی صبح کو اللہ ملائکہ کو بیجھتا ہے جو زمین پر نازل ہو جاتے ہیں گلیوں کے کناروں پر کھڑے ہوتے ہیں اور آواز دینا شروع کر دیتے ہیں اسے تمام ہی سنتے ہیں سوائے انسانوں اور جنوں کے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نکل پڑو اپنے رب کریم کی جانب وہ تم لوگوں کو بہت زیادہ عطا فرمائے گا بڑے معاصی بخش دے گا جس وقت جائے نماز پر آجاتے ہیں تو ملائکہ سے اللہ مخاطب ہوتا ہے ایسے مزدور کی مزدوری کیا ہے جس نے کام پورا کر دیا اور وہ جواب دیتے ہیں اس کی جزا ہے یہ پوری مزدوری ادا فرمائی جائے اللہ نے فرماتا ہے میں نے اپنی رضا اور اپنی مغفرت ان کا اجر کر دی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: