جاگ خوابوں کے بھنور سے اے محمدؐ کے غلام ,تیرے آباء کی شرافت کا چلن خطرے میں ہے _ عالم خان

عالمی استعماری قوتوں کی جغرافیائی، نسلی اور لسانی تقسیم کا عالمی منصوبہ کامیاب ہوا اس کی زندہ مثال موجودہ دور کے خون مسلم پر مسلمانوں کی صفوں میں انتشار اور احساسات میں اختلاف کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے کوئی کابل پر روتا ہے توکوئی کشمیر اور فلسطین پر اور آپس میں یہی بحث جاری ہے کہ آپ فلسطین پر نوحہ کناں ہیں لیکن کابل پر کیوں نہیں؟؟ آپ کو کشمیر کی آزادی کی فکر ہے تو قبلہ اوّل بیت المقدس کی کیوں نہیں؟؟

حالاں کہ ایک وقت تھا جب نسل، زبان اور جغرافیہ پر مسلمان تقسیم نہیں تھے تو جہاں بھی خون مسلم بہتا تھا جہاں سے بھی مسلمان بہن کی آہ وپکار آتی تو عوام اور حکمران اس طرف دوڑتے تھے جس کی گواہی بوسنیا، اندلس اور سندھ کی تاریخ دیتی ہے کہ ڈاکووں کی قید میں ایک مسلمان بہن کی رات کے اندھیرے میں چیخ وپکار جب حجاج بن یوسف کو پہنچی تو پوری رات سوئے نہیں وہی الفاظ دہراتے تھے اور نقشے پر سندھ تلاش کرتے رہے کہ کب صبح ہو کہ میں اپنی بہن کی مدد کرسکوں۔
آج فلسطین، کابل، کشمیر، ترکستان اور شام کے بچوں، ماوں اور بہنوں کے لہولہان چہروں کو دیکھ کر جیسے ہم تقسیم یا خاموش ہیں تو ویسے ہی ہمارے منتخب حکمراں بھی، دنیا میں کہیں بھی اگر ایک مسلمان کے انفرادی عمل سے کافر کا خون بہتا ہے تو فوراً عالمی قوتیں یک آواز ہو کر ایک ہی صف میں کھڑی ہو جاتی ہیں اقوام متحدہ کا اجلاس بلایا جاتا ہے لیکن ایک دہشت گرد ریاست دو دن سے نہتے مسلمان بھائیوں، بہنوں اور ماوں کو بے رحم گولیوں سے چھلنی کر دیتی ہے کہیں سے بھی آواز نہیں آئی کہ یہ خون کیوں بہہ رہا ہے کسی نے بھی اجلاس نہیں بلایا اور مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا کہ یہ دہشت گردی ہے۔ مسجد اقصی کے جلوے ہو یا کعبے کا جمال , اتحاد کفر سے ہر انجمن خطرے میں ہے , جاگ خوابوں کے بھنور سے اے محمدؐ کے غلام ,تیرے آباء کی شرافت کا چلن خطرے میں ہے .اب اٹھنا ہوگا یک آواز اور یک زبان ہونا ہوگا اپنے حکمرانوں کو غیرت دلانی ہو گی ورنہ ہمارے اختلاف اور ہمارے حکمرانوں کی خاموشی سے کہیں بھی یہ خون نہیں رکے گا یہ اسی طرح بہتا رہے گا اور ہم یوں ہی تصویریں شئیر کرتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: