لگتا ہے قوموں پر زوال آتا ہے تو اللہ ان کے بے حس مردوں کا کام بھی ان کی عورتوں کے ذمہ لگا دیتا۔ زبیر منصوری

لگتا ہے قوموں پر زوال آتا ہے تو اللہ ان کے بے حس مردوں کا کام بھی ان کی عورتوں کے ذمہ لگا دیتا ہے قدس کی مرابطات الا قصی بہنو!امت کے مرد وں کے لئے وہاں دعا کرنا جہاں ان کے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا براق باندھا گیا تھا جہاں ان کے آقا نے نبیوں کی امانت کی تھی

ہاں وہیں کھڑے ہو کر اپنی چادریں اٹھا کر جو بتول رض کے صدقے تمہیں عطا ہوئیں تھیں اپنی امی عائشہ رض کو یاد کر کے ان امتی مردوں کے لئے دعائے غیرت مانگنا دعائے حمیت طلب کرنا تمہارے خون آلود دوپٹّے جب تمہاری دعا وں کی آہ و زاری میں تمہارے آنسووں سے بھی بھیگنے لگیں تو کہنا مولا یہ کون لوگ تو نے ہمیں عطا کئے ہیں حمیت نام تھا جس کا وہ گئی ان حاکموں کے دل سے میری عزیز بہنو! میں جب کبھی سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ تم کس مٹی کی بنی ہوئی ہو تم نسل در نسل مسجد اقصی کے صحن کو آباد کئے ہوئے ہو تم اس کی محافظ بنی اپنی گودوں میں بچے اٹھائے سحر و افطار یہیں کرتیں سفاک اسرائیلی کتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی بیٹیاں اور تمہارے حکمران ۔۔آہ انہوں نے تلواریں بیچ کر مصلےخرید لئے وہ خانہ خدا کے اندر جانے کے اعزاز کے زعم سے ہی نہیں نکل پاتے وہ نعوذ باللہ اللہ کو دھوکہ دینے میں مصروف ہیں۔۔ میری عزیز بہنو! تم امت کا فخر ہو فرض کفایہ ہو تمہارا جذبہ جوش مستقل مزاجی اللہ پر سچا سُچا میٹھا پکا ایمان اور اللہ کے سوا کسی پر بھی بھروسہ نہیں یہ وہ چیز ہے جو تمہارا اصل اسلحہ ہے میری بیٹیو! یہ ایٹم بم والوں فوجوں اور ٹینکوں والوں کی طرف ہرگز مت دیکھنا یہ وہن کے مرض میں مبتلا لوگ بہت جلد میدان حشر میں تمہارے قدموں میں گرائے جائیں گے ان کی عزت و شرف کے مینار تمہارے قدموں کی دھول ہوں گے تب تمہارا منتقم اور غالب رب ان کی گردنوں کے سرئیے نکال کر پوچھے گا کہ ظالمو جب بیٹیاں سیسہ پلائی دیوار بنی کھڑی تھین تم کس بل میں دبکے ہوئے تھے تم نے کیوں چوڑیاں پہن رکھیں تھیں تمہارے کانوں میں کیوں روئی ٹھنسی ہو ئی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: