ایک ترک خاتون قسم کھا کر روداد سناتی ہے- عالم خان

چند دن پہلے عالمی استعماری قوتوں کے منصوبوں کی کامیابی کے طرف اشارہ کیا تھا اگر کسی کو شک ہو تو میرے وال پر پر کئی مسلمانوں کے کمنٹس ملاحظ کیجئے جو بجائے اس کے کہ وہ فلسطین کا مقدمہ لڑیں، فلسطینیوں کا ہم آواز بنیں جو کئی روز سے قبلہ اوّل کی حفاظت پر اہل عیال کے ساتھ موجود ہیں بڑوں کے آنکھیں سرخ، چہرے لہولہان، بدن زخموں سے چور اور حالت روزہ میں ہے جبکہ بچے ڈرتے نہیں ،

روتے نہیں ایک ہاتھ میں فیڈر اور دوسرے ہاتھ میں پتھر اٹھائے اپنے والدین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ان کی پہاڑ جیسے حوصلوں کا راز یہی ہے کہ ان کو یقین ہیں کہ چار دانگ عالم میں ہمارے بہن بھائی ہمارے لئے فکر مند ہیں۔ ایک ترک خاتون قسم کھا کر روداد سناتی ہے کہ جب میں فلسطین گئی تو ساتھ کچھ پیسے لے گئی تھی تاکہ وہاں اپنے بہن بھائیوں کو دے آؤں جب میں بیت المقدس کے قرب وجوار میں موجود فلسطینیوں کے گھروں داخل ہوتی تھی اور ان کو پیسے پیش کرتی تھی تو ان کی آنکھیں بھر جاتی اور کہتے کہ ہم پیسوں کی ضرورت نہیں ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کا ساتھ چاہیے بھلا وہ دور کیوں نا ہو اور کئی ایک کو یہ کہتے ہوے سنا کہ جب ہم سینے پر گولی کھاتے ہیں تو کوشش ہوتی ہے کہ آہ وفریاد منہ سے نا نکلے کہ کہیں صہیونی دہشت گرد یہ نہ سمجھیں کہ ہم بزدل ہیں لیکن اپنے سرخ خون کو دیکھ کر یہ ضرور سوچتے ہیں کہ اس کی خوشبو ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو پہنچے گی اور وہ ہمارا مقدمہ لڑیں گے۔ امت کے نوجوانو! یہ وقت بیداری کا ہے اپنے صفوں کی تعین کا ہے کسی ملک اور حکمرانوں کے سیاسی مفاد کے خاطر یا کسی حکمران کے محض مخالفت کی وجہ سے فلسطین کے مقدمہ سے دستبرداری کا نہیں اور نا ان لوگوں پر سب وشتم کا ہے جو عالم اسلام کا دعوی اکیلا لڑ رہا ہے جس کو آپ منافقت اور سیاست کہتے ہیں۔

اگر رتی برابر غیرت ایمانی ہے تو بتائیں عالم اسلام کے تقریبا باون (٥٢) ممالک میں سے کس ملک کے پارلیمنٹ نے ہنگامی اجلاس بلائی؟؟ کس پارلیمنٹ نے مشترکہ قراداد پیش کی کہ اسرائیل “دہشت گرد” اور “غاصب” ہے؟؟ کس پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے حق میں عالمی عدالت کے گئے فیصلے پر عمل در آمد یقینی بنا دیں ورنہ یہ ٹوپی ڈرامہ بن کرے۔ کس پارلیمنٹ نے علی الاعلان بل پاس کیا کہ ہم اسرائیل کے خلاف فلسطینی بھائیوں کے ہر قسم مزاحمت کا ساتھ دیں گے؟؟ یہ سیاسی بیان بازی نہیں ترک پارلیمنٹ کا مشترکہ قرار داد ہے جس پر اردوغان کے سخت مخالفین کے دستخط بھی موجود ہیں۔ بخدا! آج ان ترک سیکولرز پر بھی رشک آیا کہ انھوں نے اردوغان کے ساتھ سیاسی مخالفت کو ایک طرف رکھ کر فلسطین کے مقدمہ لڑنے میں اپنا حصہ ڈالا چاہتے تو آپ لوگوں کی طرح کہہ سکتے تھے کہ یہ آپکی منافقت ہیں لیکن لگتا ہے ان میں آپ سے غیرت اور شعور زیادہ ہے جو وقت کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ اگر آپ اٹھ نہیں سکتے تو کم ازکم جو اٹھے ہیں ان کے پاؤں پکڑنے کی کوشش نا کرے آپ لوگوں کو آپکی سیاست اور سیاسی مفادات مبارک ہو ہم اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے تھے کھڑے رہیں گے اور ہر اس اواز کی تائید کریں گے جو قبلہ اوّل کی حفاظت کے لیے اٹھتا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: