نماز میں شیطان کا آنا کسیا ہے

روایت ہے کہ ایک قوم کی نماز میں امامت کرتے ہوئے حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے نماز پڑھائی جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا کہ شروع سے ہی شیطان میرے در پے رہا حتیحح کہ میں دوسروں پر خود کو فضیلت ہونے کا احساس کرتا رہا لہذا میں آئندہ کبھی نماز میں امامت نہیں کروں گا۔ حضرت حسن نے فرمایا ہے جو شخص علماء کے پاس کبھی نہیں آتا جاتا اس کی امامت میں کبھی نماز ادا نہ کریں۔اور امام نخفی فرماتے ہیں کہ بلا علم نماز میں امامت کرنے والا شخص یوں ہے جیسے سمندر میں پانی کی پیمائش کرتا ہوں کہ کمی یا زیادتی سے نابلد ہو۔

حضرت عاصم اصم نے فرمایا ہے میں باجماعت نماز سے رہ گیا تو ابو اسحاق ہی صرف تھے جو میری تعزیت کرنے کے لئے آئے جب کہ میرا فرزند وفات پاتا تو میری تعزیت کی خاطر دس ہزار لوگ آتے۔ حیف ہے لوگوں پر کہ وہ دنیا کی مصیبت کی نسبت دین کی مصیبت کو آسان جاننے لگے ہیں۔حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جو شخص اذان سن لے مگر اس کو قبول نہیں کرتا تو اس نے بھلائی کے لئے نیت نہ کی اور نہ ہی اس کی خاطر بھلائی کا ارادہ کیا گیا مراد ہے کہ اگر وہ اذان سن کر مسجد میں باجماعت نماز کے لیے حاضر نہ ہوا۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا ہے کہ ابن آدم کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا جائے تو یہ بہتر ہوگا اس بات سے کہ وہ اذان کو سن لے پھر بھی مسجد میں حاضر نہ ہو۔روایت کیا گیا ہے کہ حضرت میمون بن مہران مسجد میں نماز کے لیے آئے تو ان کو بتایا گیا کہ لوگ تو نماز ادا کرکے چلے گئے ہیں تو آپ نے فرمایا انا للہ و انا الیہ راجعون میں اس نماز کے ادا کرنے کو عراق کی حکومت سے بھی بہتر جانتا ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: