عید گاہ جانے اور آنے کے راستے الگ الگ ہونے چاہئیں

سیدنا جابر ؓ نے کہا کہ جب عید کا دن ہوتا تو نبی اکرم واپسی میں راستہ بدل کر جاتے تھے (صحیح بخاری)۔

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ کے ساتھ عید کے دن نماز کیلئے حاضر ہوا تو آپنے خطبے سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی ۔ پھربلالؓ پر ٹیک لگائے کھڑے ہو گئے۔ اللہ پر تقویٰ کا حکم دیا اور اس کی اطاعت کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی پھر عورتو ں کے پاس جاکر ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا : ’’ صدقہ کرو کیونکہ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔‘‘ عورتوں کے درمیان سے ایک سرخی مائل سیاہ رخساروں والی عورت نے کھڑے ہوکر عرض کیا: کیوں یا رسو ل اللہ ؟ آپ نے فرمایا: ’’کیونکہ تم شکوہ زیادہ کرتی ہو اور شوہرکی ناشکری۔‘‘ حضرت جابر فرماتے ہیں وہ خاتون اپنے زیوروں کو صدقہ کرنا شروع ہو گئیں ، حضرت بلالؓ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔‘‘(صحیح مسلم)۔ ام عطیہؓ سے روایت ہے کہ ہمیں نبی کریمنے حکم دیا کہ ہم کنواری ، جوان اور پردے والیاں عیدین کی نماز کیلئے جائیں اور حائضہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ عید گاہ سے دور رہیں(صحیح مسلم)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: