٭ عید گاہ جانے سے قبل کوئی میٹھی چیز ضرور کھانی چاہیے بہتر ہوگا کہ کھجور یا چھوہارے ہوں۔

احادیث کی روشنی میں : سیدنا انس بن مالکؓ رویت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ عید الفطر کے دن جب تک چند چھوہارے نہ کھالیتے، عید گاہ کی طرف نہ جاتے اور چھوہارے طاق عدد میں کھاتے(صحیح بخاری)۔ ٭ عید کے دن عید گاہ جانے اور آنے کے راستے الگ الگ ہونے چاہئیں اس بنا پر کہ کہ وہاں کے رہنے والے انسان اور جنات اور فرشتے طاعات و نیکیوں پر گواہ بن جائیں یا اس بنا پر کہ دونوں راستوں کے رہنے والوں کو برکتیں حاصل ہوں یا اس بناپر کہ دونوں راستوں میں شعائر اسلام کا اظہار ہو، وغیرہ۔

٭ عید کی نماز کے بعد امام تقویٰ اور نیکی کی ترغیب دلائے اور مقتدی اس کو بغور سنیں اور اس پر عمل کرنے کی سعی کریں۔٭ اگر عید کے دن نماز فوت ہوجائے تو چاہیے کہ 2 رکعت نماز پڑھ لی جائے، یہی مناسب طریقہ ہے۔ ٭ عیدین کی نماز میں عورتیں بھی شامل ہوں اور ان کی نماز کا الگ اہتمام کیا جاے نیزعورتیں اُن باتوں کا پاس و لحاظ رکھیں جو اسلام کو مقصود ہیں۔ ٭ عید کے دن خوشی کا اظہار ہونا چاہیے اور اس کیلئے جائز طریقوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ تمام کام اس لئے اختیار کیے جائیں کہ آج کا دن ہمارا عید کا دن ہے اور عید خوشی کا دن ہے ۔پھر یہی وہ طریقہ ہے جس کو اختیار کرنے سے اللہ اور اس کا رسول بھی خوش ہوتے ہیں۔ اجر و مغفرت کااعلانِ عام: عید الفطرکا دن مومنین کو پورے ایک ماہ رمضان المبارک کی عبادات کے بعد نصیب ہوتا ہے۔رمضان المبارک میں وہ اپنے آپ کو ظاہر ی اور باطنی طور پر پاک کرتے اور اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں،اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ ان بندوں سے راضی ہوتا ہے۔صحیح روایات سے معلوم ہوتا ہے اورسیدنا معدؓ بن اوس انصاری اپنے والد حضرت اویسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا :

’’جب عید الفطر کا دن آتا ہے تو اللہ کے فرشتے تمام راستوں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں اے مسلمانو! رب کے پاس چلو جو بڑا کریم ہے ،نیکی اور بھلائی کی راہ بتاتا اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے اور اس پر بہت انعام سے نوازتا ہے، تمہیں اس کی طرف سے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزے رکھے اور اپنے رب کی اطاعت گزاری کی ،تمہیں اس کی طرف سے تراویح پڑھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے تراویح پڑھی سو اب چلو اپنا انعام لو اور جب لوگ عید کی نماز پڑھ لیتے ہیں تو ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے:اے لوگو! تمہارے رب نے تمہاری بخشش فرمادی پس تم اپنے گھروں کو کامیاب و کامران لوٹو یہ عید کا دن انعام کا دن ہے۔‘‘ اس اجر و انعام اور رحمت و مغفرت کے تعلق سے یہ اضافہ بھی ملتا ہے کہ: ’’جب لوگ عید گاہ میں آجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے: جن مزدور وں نے اپنا پورا کام کیا ہو اس کی مزدوری کیا ہے! فرشتے عرض کرتے ہیں اس کی مزدوری یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے، تب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ جن لوگوں نے روزے رکھے اور نمازیں پڑھیں ان کے عوض میں، میں نے انہیں مغفرت سے نوازدیا۔‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا کرم ہے کہ وہ ہمیں دنیا میں بھی خوشیاں مہیا کراتا ہے ان اعمال کے بدلہ جو دنیا میں ہم نے کئے ہیں اور آخرت کا اجر تو اجرِ عظیم ہوگا۔ ہم نے رمضان میں روزے رکھے اور عبادات انجام دیں جس کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر دیر کئے ہی ہمیں ہماری مزدوری کی اجرت دے دی۔یہی اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اور اسی طریقہ کو مسلمانوں کو بھی اختیارکرنا چاہیے۔ بے انتہا خوشیاںاور مسرتوں سے بھرپور عید سعید خصوصاًامت مسلمہ اور تمام ہی انسانیت کے علمبرداروں کو مبارک باد کا پیغام پیش کرتی ہے۔اچھا ہوگا کہ یہ عید انسانوں کیلئے خیر و برکت کا ذریعہ بن جائے اور انسانوں کی انسانوں سے جو دوریاں پیدا ہو رہی ہیں ان میں کمی واقع کردے ، یہی ہماری خواہش اور یہی ہماری دعا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہماری عبادات کو قبول فرمائے اور دنیا اور آخرت میں متقیوں کا امام بنائے،آمین ۔ اس عید سعید کے موقع پر ہمیں اپنے ان اسلام پسند بھائیوں کو بھی نہیں بھلانا چاہیے جو آج تنگ دستی اور تشدد کا شکار ہیں۔ ان میں بطور خاص مصر و شام کے مظلوم مسلمان ہیں تو وہیں فلسطین، عراق، افغانستان، بنگلہ دیش اور یگر وہ ممالک جہاں مسلمانوں پر صرف اس بنا پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں،جو اپنی بقا اور وجود کی جدو جہد کررہے ہیں یا اسلامی تشخص کے فروغ میں مصروف ِعمل ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: