ایک سبق سب بہنوں کےلیے

ایک سبق سب بہنوں کےلیے”اگر آپ اکیلی رہ جائیں تو رک جائیں گی؟”اگر آپ کی طلاق ہو چکی ہے،اگر آپ بیوہ ہیں،اگر آپ معزور ہیں،اگر آپ کو ریجیکٹ کیا گیا ہے،منگنی ٹوٹی یا نکاح ٹوٹا،کچھ بھی نہیں ٹوٹا لیکن دل ٹوٹا گھر میں ہوتے ہوئے بھی کوئی قدر نہی آپکی تو۔۔۔۔؟؟؟؟اگر آپ اکیلی رہ جائیں تو رک جائیں گی؟تاریخ اٹھائیں اور پڑھیں ہاجرا علیہ السلام کا واقعہ،اللہ کا حکم ہوا ۔۔۔شوہر چھوڑ آتا ہے صحرا میں ایک دودھ پیتے بچے کے ساتھ ۔۔۔۔صرف اللہ کے سہارے اور حکم بھی اللہ کا!! کسی سے شکوا کیا اس عظیم ہستی نے؟ان کا تو ایمان تھا اللہ مجھے ضائع نہی ہونے دے گا۔۔۔اللہ نے نہی کیا ضائع۔۔۔ایسا مقام دیا کہ کسی کا وہ مقام نہی ۔

عورت اپنے آپ کو کمزور سمجھتی ہے لیکن اللہ جانتا ہے اس میں کتنی ہمت کتنا potential ہے کتنی صابر ہے یہ اللہ نے مثال سیٹ کر دی نا ہمارے لیے کہ اگر تم اللہ کی رضا میں راضی ہو ،اللہ کے حکم پر صبر کرتی ہو ،اس راستے کی تکلیفیں سہتی ہو تو تمہارا مقام بہت بلند ہو گا اللہ تمہیں بھی ضائع نہی کرے گا وہ عظیم ہستی صحراوں میں اکیلی ہے یعنی کوئی وسائل نہی کوئی انسان دلاسا دلانے والا نہی ۔۔۔صحرا کبھی دیکھا ہے؟ اسکی تنہائی ہی انسان کو مار دینے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔۔۔قید تنہائی بڑی ظالم ہوا کرتی ہے لیکن جن کا مقصد حیات بلند ہو ،جنکا بھروسا عرش والے پر ہو وہ ایسے صحراوں میں بھی survive کر جایا کرتے ہیں جی جایا کرتے ہیں!آپ سوچ رہی ہوں گی کہ ہم تو عام عورت ہیں ہم کیسے ہمت کریں ۔۔کچھ نہی ہمارے پاس۔۔یہ باتیں پیٹ نہی بھرا کرتیںتو سنیں ! اللہ مثالیں بناتا ہے آپ کے لیے اور پھر انھیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیتا ہے ۔۔۔وہ آپکو سخت سے سخت حالات کی مثال دیتا ہے جبکہ آپ پر ایسے حالات تو کبھی آتے ہی نہی۔۔۔ وہ ہستیاں عظیم تھی تو ان جیسے امتحان بھی کسی کے نا تھے ۔۔۔آپ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ بھی تو آخر انسان تھے!! کیا تکلیف صرف آپکو محسوس ہوتی ہے انکو نہی ہوا کرتی تھی؟کچھ باتیں سمجھ لیں !یہ سب جو قرآنی واقعات پڑھتے ہیں ان میں اہم بات یہ ہے کہ ” اللہ پر مکمل بھروسا کیا جائے جبکہ حالات اور فطری قانون بھی آپکے مخالف ہوں ” تو اس بھروسے ،اس توکل پر اللہ آپ کے ساتھ بھی ایسے غیر فطری حالات جنہیں میں” amazing واقعات” کہتی ہوں ایسے حالات پیش کر دے گا تو وہ عظیم ہستی جب اپنے بچے کو بھوکا دیکھ کر بیتاب ہوتی ہے تو وہ کیا کرتی ہے؟؟ کیا چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ جاتی ہے اور خالی دعائیں فریادیں کرتی ہے؟؟؟ نہی نہی!!!وہ دو پہاڑیوں کے درمیان چکر کاٹتی ہیں جنہیں ہر مسلمان کو چاہے مرد ہے یا عورت وہ عمرہ کرنے جائے تو اسے اسی عظیم “عورت” اسی تنہا لیکن توکل سے بھری ہوئی عورت کے قدموں پر دوڑنا ہے۔

اللہ سکھاتا ہے نا حرکت میں برکت ہے ،توکل کرو اور دوڑ لگاو ہمت ہار کے نا بیٹھ جاو ،مرد یا عورت جو بھی اللہ پر توکل کرے گا اللہ اس کو ضائع نہی کرئے گا ۔۔۔اللہ نے وہیں زم زم نکالا جو سراسر شفا ہے جسے جس نیت سے پیا جائے اسکی دعا قبول ہوتی ہے اللہ اکبر! پانی زندگی ہے اور زندگی کو اللہ نے کہا پیدا کیا ؟ جہاں صحرا ہے ، جینے کی کوئی امید نہی لیکن اللہ ایسے ہی بے جان مٹی کو دوبارہ زندگی بخشتا ہے اس طرح قیامت میی بھی ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔۔۔ایک اور اہم بات اللہ اس عظیم عورت کے ذریعے صحرا کو مکہ بناتا ہے۔۔۔ہم کہتے ہیں نا عورت سے گھر بنتا ہے اللہ نے تو پورا شہر اس عورت کی وجہ سے آباد کر دیا ۔۔میں قربان جاوں اللہ ہمیں جنت میں ہاجرا علیہ السلام کا دیدار کروائے آن شاء اللہاب دیکھیں وہ اکیلی عورت آنے والے وقت کے پیغمبر یعنی اسماعیل علیہ السلام کی پرورش کرتی ہیں اور وہی بیٹا ایک دن عظیم باپ: اللہ کے خلیل یعنی اللہ کے گہرے دوست ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مل کر اللہ کا گھر یعنی کعبہ تعمیر کرتے ہیں اللہ اکبر یہ ہے قربانی کا صلہ، یہ ہوتا ہے چنے جانا، یہ ہوتی ہے برکت ، یہ ہوتی ہے اللہ سے بے پنا محبت کا ثمر ، یہ ہوتا ہے اللی سے راضی رہنے کا صلہ ، یہ ہوتا ہے توکل کا نتیجہ ، یہ ہوتی ہے اسباب اختیار کرنے کی

حکمت!!!اب کیا بیٹھنا ہے سب چھوڑ چھاڑ کر؟ اور کرنا ہے انتظار کے کب موت آ پکڑے؟ کیا کرنا ہے انتظار کہ کوئی کہے میں تمہیں کبھی اکیلے نہی چھوڑوں گا؟؟ اور پلٹ کر کبھی آئے بھی نا؟آپ ایک عظیم عورت ہیں اور میں نے مضبوط اعصاب کی عورتوں کو دیکھا تو یہ محسوس کیا کہ “وہ دبتی ہیں ، گھرتی ہیں ، روتی ہیں اور پھر زمین پر نہی چلتی آسمانوں میں پرواز کیا کرتی ہیں”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: