کچھ تو کریں(جہانزیب راضی)

آپ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی مثال لے لیں یہ میزبان رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، بیعت عقبہ ثانیہ میں نبی صلی وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔

ابن ہشام نے اپنی “تاریخ ہشام” میں بیعت کرنے والوں میں سب سے اوپر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کا نام لکھا ہے، آپ کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا رسول اللہ صل وسلم نے مدینہ میں داخل ہونے کے بعد اپنی اونٹنی قصواء کی لگام چھوڑ دی اور فرمایا کہ یہ جہاں رکے گی وہی میرا جائے قیام ہوگا۔ اللہ کا کرنا دیکھئے کہ اونٹنی سیدھی جاکر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر رکی اور اس طرح خالد بن سعید( ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ) کو “میزبان رسول” ہونے کا شرف حاصل ہو گیا۔پ نے ایک عرصے تک حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر قیام کیا تا آنکہ آپ کے اپنے حجرے بنادئیے گئے اور پھر آپ وہاں منتقل ہوگئے۔ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے 70 سال سے زائد عمر پائی آپ فتح کی غرض سے قسطنطنیہ جانے والے پہلے لشکر میں شامل تھے۔ مسلمان پوری کوشش کے باوجود قسطنطنیہ تو فتح نہیں کر سکے مگر حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی حالت غیر ہو چکی تھی،

ان کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اب میرے دار فانی سے کوچ کا وقت آگیا ہے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ اسی لشکر کے ساتھ نعتیں پڑھتے ہوئے واپس مدینہ چلے جاتے اور اس بڑھاپے میں سکون کی حالت میں جنت البقیع میں دفن ہو جاتے کہ مدینہ ہی تو وہ شہر تھا جہاں ان کا وہ عظیم المرتبت مکان تھا جس میں “رسول امین صلی اللہ علیہ وسلم” نے طویل عرصے تک قیام کیا تھا مگر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے مدینہ سے باہر شہید ہونے اور دفن ہونے کو ترجیح دی۔ آپ نے اپنے لشکر کو حکم دیا کہ جہاں تک فوج جا سکے وہاں تک مجھے لے جانا اور وہیں مجھے دفن کر دینا تاکہ میں قیامت کے دن اپنے نبی صلی اللہ وسلم کے سامنے شرمسار نہ ہوں کہ دین کو قائم کرنے اور آپ کا پیغام دنیا میں پھیلانے کے بجائے میں مدینہ میں “ننگے پاؤں” پھرتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کا مقبرہ استنبول میں واقع ہے۔

آپ عشرہ مبشرہ کی مثال لے لیں یہ وہ 10 صحابہ اکرام رضی اللہ تعالی عنہم تھے جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی یہ کچھ نہ بھی کرتے یہ صرف مدینے میں رہتے اور جوتے پہن کر مدینے کی گلیوں میں گھومتے رہتے تب بھی ان کی بخشش پکی تھی۔ یہ ساری زندگی مسجد نبوی میں گزاردیتے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھے رہتے یہ تب بھی جنتی تھے، یہ نہ صرف صحابی کے درجے پر فائز تھے بلکہ یہ ان 10 اشخاص میں سے تھے جنھیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی، مگر آپ کمال ملاحظہ کریں کہ ان میں صرف 4 لوگوں کی قبریں مدینہ میں ہے باقی سب کے سب مدینے سے باہر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو پھیلاتے ہوئے دنیا سے چل بسے اور مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ انہیں کبھی اس بات کی حسرت بھی نہیں ہوگی کہ کاش “سامنے مدینہ ہو اور دم نکل جائے” کیوں؟ اس لیے کیونکہ “مدینے والے” آقا کا کام مدینہ سے نکل کر کرنا ان کے لیے زیادہ عزیز تھا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ احد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھال بن کر کھڑے رہے، یہ بھی عشرہ مبشرہ میں سے تھے، جنہوں نے ساری زندگی گھوڑے کی پیٹھ پر گزار دی ان کی اپنی قبر چین کے شہر “گوانگزو” میں ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے دن کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زیادہ لوگ تھے مگر جنت البقیع میں کل قبروں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ نہیں ہے سوال یہ ہے کہ یہ باقی لوگوں کو مدینے میں “برہنہ پا” چلنے سے زیادہ بھی عزیز تر کوئی کام تھا؟میں اپنے ملک عزیز کی بے حسی کا ماتم کہا کروں اور میں اس امت کی عقل پر کہاں جا کر روؤں کے جس کی عوام کا سارا زور اس بات پر ہے کہ ان کے لیڈران کے لئے کعبہ کے دروازے کھلے ہیں، انھوں نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دی ہے اور وہ ننگے پاؤں مدینہ ایئرپورٹ پر چلے۔ میرے ملک کا عالم اپنے اصل مشن کو بھول چکا ہے اسے حکمرانوں کی تعریفوں سے فرصت ملے تو وہ ان کو ان کا اصل کام یاد دلائے، وہ تو بچارا حکمرانوں کے دربار میں کوئی نصیحت کرنے کے قابل تک نہیں ہے۔ امت مسلمہ کے حکمران اپنے کرنے کے کام بھول چکے، امت کے علماء اپنا اصل مشن بھول چکے اور عوام صرف چسکے لینے میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف قبلہ اول کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ہے، امام الانبیاء کے مصلے کو لہولہان کردیا گیا ہے، انبیاء کی سرزمین کو کشت و خون میں نہلا دیا گیا ہے، ماؤں بہنوں کے سروں سے گنبد صخرہ کے سامنے چادریں کھینچ کر ان کی بے حرمتی کی جا رہی ہے اور میں اسی میں خوش ہوں کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی فوج اور ایٹم بم رکھنے والے ملک کا سربراہ “ننگے پاؤں” مدیہ کی گلیوں میں چلنے میں مصروف ہے۔

وہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کی عملی دادرسی کرنا تو دور زبانی جمع خرچ کرنے سے بھی قاصر ہے۔ سورۃ توبہ میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ؛ “کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کی خدمت کرنے کو اس کام کے برابر سمجھ لیا ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لاتے ہیں اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں؟ اللہ کی نظر میں یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے”۔شیخ احمد یاسین نے فرمایا تھا؛ “جب میں چھوٹا تھا تو سمجھتا تھا کہ یہودی فلسطین پر قابض ہیں مگر اب سمجھ میں آیا کہ یہودی سوائے فلسطین کے ساری اسلامی دنیا پر قابض ہیں۔”اسلامی جمہوریہ پاکستان کا پاسپورٹ دنیا کا وہ واحد پاسپورٹ ہے جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے کہ “یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے ساری دنیا کے لیے کارآمد ہے”۔ میں چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم پاکستان سے درخواست گزار ہوں کہ آپ اپنے اس پاسپورٹ کی ہی لاج رکھ لیں۔ سفارتی طریقوں سے ہی سہی، اقوام متحدہ اور او- آئی- سی کے ذریعے سے ہی سہی، ترکی، ایران اور قطر کے ساتھ مل کر ہی سہی کوئی ایسا پریشر گروپ اور بلاک تو بنا لیں جس سے آئندہ کے لئے اسرائیل کی بدمعاشی ختم نہ سہی کم تو ہوجائے۔

خدارا! کوئی تو ایسا طریقہ اپنایا جائے یا مصر پر دباؤ بڑھایا جائے ہے کہ غزہ کی جیل میں تین طرف سے اسرائیل کے علاوہ صرف چوتھا راستہ مصر کا ہی ہے جہاں سے فلسطینی مسلمان آ اور جاسکتے ہیں اور ظلم کی ہر حد پار کرتے ہوئے مصر نے اس بارڈر کو بھی خاردار تاریں لگا کر خندق کھود کر اور اس میں بھی کرنٹ چھوڑ کر اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ بطور پاکستانی ہمیں بھی اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم جن لوگوں کو اسلام اور مدینہ کے نام پر اقتدار میں لاتے ہیں ان کا مطمح نظر سوائے اسلام اور مسلمانوں کے ہر کام ہوتا ہے اس لئے اگر آپ کو مسجد اقصی پر درد اور تکلیف ہے اور آپ کا دل بھی خون کے آنسو روتا ہے تو زیادہ نہ سہی کم از کم طیب اردوان جیسا ہی کوئی منتخب کر لیں تاکہ کم سے کم ہمارے جذبات کی صحیح ترجمانی تو کر سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: