دور حاضر کے “ارطغرل” کا ترکی، “مدینے جیسی ریاست” کے سب سے ہینڈسم “ٹیپو سلطان”

دور حاضر کے “ارطغرل” کا ترکی، “مدینے جیسی ریاست” کے سب سے ہینڈسم “ٹیپو سلطان” کا پاکستان، شاہ فیصل شہید کے جاں نشیں و خادم الحرمین الشریفین ایم بی ایس کا سعودی عرب، اسلامی دنیا کا معاشی جائنٹ ملائشیا اور “مرگ بر اسرائیل” کی سیاست کا عالمی “ہیرو” ایران ۔ ۔ ۔ ۔ آپ سب سے ہم یہ کہیں گے کہ


“ٹوئٹر” سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔۔
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اور یہ بھی کہنا ہے کہ “باتوں سے قلعے فتح نہیں ہوتے”۔ آج عید پر بھی اسرائیل کے حملے جاری ۔۔۔ میڈیا رپورٹس کی مطابق 119 شہداء میں کم از کم 28 معصوم بچے اور 20 کمزور و بےکس مائیں بہنیں شامل ہیں۔ اسرئیل کے جنگی جرائم نے عظیم انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے اور آپ پانچوں بھائی جرت اور حمیت کے ساتھ امت کی رہنمائی کرنے کی بجائے بین الاقوامی قائدوں اور قوانین کی پاسداری کے پیچھے اپنا اپنا خوف چھپائے بیٹھے ہیں۔
اگر آج آپ پانچوں اپنا آخری ٹوئیٹ یہ کریں کہ “اسرائیل کے پاس امن کی طرف لوٹ جانے کا یہ آخری موقع ہے۔ اگر اب ایک بھی مزید فلسطینی کو شہید کیا گیا تو ہمارے پاس تل ابیب پر حملے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہوگا۔” اور اس کے بعد ہر قسم کے سفارتی رابطوں کو عارضی طور پر جام کر دیا جائے تو اول تو اسرائیل کے حملے رک جائیں گے۔۔۔ لیکن مسلم حکمرانوں کی دیرینہ بے غیرتی اور بے حسی کی وجہ سے اسرائیل مزید حملہ کرنے کی جرت کر بی بیٹھے تو اس کے جواب میں آپ پہلے مرحلے میں تل ابیب پر صرف سو سو میزائلوں کو تحفہ نچھاور کر دیں ۔۔۔۔ اور بس۔


اب اس بات پر ہمارے “پڑھے لکھے” مدبران وطن کے فلسفے شروع ہو جائیں گے۔ تو ہم پہلے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ کیا ہو جانا ہے؟؟؟ کیا آپ کے خیال میں عالمی جنگ چھڑ جائے گی؟؟ ہر گز نہیں کیونکہ اس وقت کرونا اور اس کے معاشی نتائج سے جنگ جاری ہے اور ہر اہم ملک “اینٹی وار پالیسیز” کے مطابق ردعمل پر مجبور ہے۔ دوسرے عالم اسلام میں اس ایک ایونٹ سے اتنی وسیع بیداری یک لخت پیدا ہو جائے گی جو یورپ سمیت ساری دنیا میں عوامی طاقت کا عظیم الشان مظہر بن سکتی ہے۔ مسلم ریاستوں سے جڑے ہوئے اسرائیل کو بچانے کے بین الاقوامی طاقتوں کے پاس آگ کو ٹھنڈا کرنے اور اسرائیل کو اگلے 25، 50 سال تک کوزے میں قید رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔
آخری سوال۔۔۔۔ کیا جرم ضعیفی میں مبتلا یہ پانچوں مسلم ریاستیں ایسا کریں گی؟؟ ظاہر ہے کہ لمحہء موجود تک تو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ لیکن حل بھی اس کے سوا کوئی اور نہیں۔۔۔۔ “باتوں کے پجاری” حکمرانوں میں سے آخر کار کسی ایک کو دینی حمیت و غیرت کے مطابق فیصلہ کرنا پڑے گا۔۔۔ پھر ساری امت کی رہنمائی کا تاج اسی کے سر ہوگا اور باقی ریاستوں میں اٹھنے والے عوامی دباؤ کے بعد سب کو اسی لائن پر چلنا ہوگا۔ یاد رہے ہر طاقت کو زوال ہوتا ہے اور زوال کےآغاز کی پہلی سیڑھی عدل کی جگہ ظلم کو قبول کرلینا ہوتا ہے۔ تاریخ کا طے شدہ سبق ہے کہ ظلم کو قبول کر لینے ولے آج جتنے بھی طاقتور ہوں کل کو ذلیل و رسوا ہوکر ختم ہو جائیں گے۔ خطابتیں، حکایتیں، فصاحتیں، بلاغتیں
فضول سب فضول ہے، قبول ہے یہاں لہو

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: