ایک شخص کو آپﷺ کی وصیت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے وصیت فرمایئے تو آنحضرت نے فرمایا جس مقام پر بھی تو ہو اللہ سے ڈرتا رہ اس نے عرض کیا کہ اور فرمائے تو آنجناب نے فرمایا کہ اگر تجھ سے برائی سرزد ہوجائے تو جلدی سے اس کے بعد کوئی نیک عمل کر وہ نیکی اس برائی کو مٹائے گی اور عرض کیا کہ کچھ اور فرمائیں آپ نے ارشاد فرمایا کے لوگوں سے حسن اخلاق رکھ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ افضل عمل کیا ہے آپ نے فرمایا کہ حسن اخلاق۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس کی صورت اور اخلاق اللہ تعالی نے اچھے کر دیئے اس کو آگ نہ کھائے گی۔حضرت فضیل سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگوں نے عرض کیا کہ فلاں عورت ہے جو دن کے وقت روزے سے ہوتی ہے اور رات کو نماز ادا کرتی ہے لیکن اس کے اخلاق برے ہے وہ اپنے پڑوس والوں کو اپنی زبان سے دکھ دیتی ہے آپ نے فرمایا اس عورت میں کچھ بھی خیر نہیں ہے وہ اہل دوزخ سے ہے۔ حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اولین چیز میزان میں جو رکھی جائے گی وہ صرف اخلاق اور سخاوت ہے اور اللہ نے جب ایمان تخلیق فرمایا تو اس نے عرض کیا یا الہی مجھ کو قوی کردے۔ پس اللہ نے اس کو حسن اخلاق اور سخاوت کے ساتھ قوی بنایا جس وقت کفر کو تخلیق فرمایا تو اس نے عرض کیا یا الہی مجھے قوی کردے پس اللہ نے اس کو بخل اور بد اخلاق کے ساتھ قوی کردیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ دین اللہ نے اپنے لیے مخصوص فرما لیا اور تم لوگوں کے دین کے واسطے اچھے اخلاق اور سخاوت ہی بہتر ہیں۔ خبردار تم ان دونوں کے ساتھ اپنے دین کو زینت دو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے اللہ کی عظیم ترین مخلوق حسن اخلاق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سوال عرض کیا گیا کہ ایمان کے لحاظ سے کونسا ایماندار سب سے افضل ہے حضرت نے فرمایا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: