حسن اخلاق اور آپﷺ کی دعا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ لوگوں کے واسطے تم مال کے ذریعے کافی نہ ہو سکو گے تم انہیں اپنے چہرے کی بشاشت اور حسن اخلاق کے ساتھ کافی ہو جاؤ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے بداخلاقی نیک عمل یوں برباد کرتی ہے جس طرح شہد کو سرکہ بگاڑ دیتا ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم وہ آدمی ہو کہ تمہاری صورت کو اللہ نے اچھا بنایا ہے تم اپنے اخلاق کو اب بہتر بناؤ۔حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے کہا کرتے تھے۔

” یا الہی جیسے میری شکل و صورت تو نے اچھی بنا دی ہے تو میرے خلق کو بھی اچھا بنا دے”۔ حضرت ابن عمر نے روایت فرمایا ہے کہ عموما رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔
( یا الہی میں سوال کرتا ہوں تجھ سے صحت کا اور آفیت کا اور حسن اخلاق کا)۔حضرت ابو ہریرہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مومن کی تکریم اس کے دین سے ہے اور اس کے حسن اخلاق باعث اس کا حسن ہے اور عقل کے باعث مروت ہے۔ حضرت اسامہ بن شریک سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراب دریافت کر رہے تھے کہ بندے کو کون سی نیکی عطا فرمائی گئی مراد کے سب سے اعلی خوبیاں دی گئی ہے آنحضرت نے فرمایا حسن اخلاق۔

رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے مجھے سب سے بڑھ کر پسندیدہ اور میری مجلس کے قریب سب سے بڑھ کر روز قیامت وہ ہوگا جو سب سے بہتر اخلاق والا ہوگا۔ حضرت ابن عباس نے روایت فرمایا ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا جس بندے کے پاس تین چیزیں نہیں ہوتی یا ان میں سے ایک نہیں ہوتی تم اس کے عمل کو کچھ اہمیت نہ دیا کرو۔

1۔ ایسا تقوی جو اسے اللہ کے نافرمان ہونے سے باز رکھے۔

2۔ بردباری جو اس کو جہالت کا مرتکب ہونے سے باز رکھے۔

3۔ حسن اخلاق جس کے ساتھ اس کی لوگوں میں بودوباش ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: