حسن اخلاق اور آیت کریمہ

جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں ارشاد الہی ہے۔ ( بلاشبہ تو عظیم اخلاق والا ہے)۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق قرآن تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک شخص نے حسن اخلاق کے متعلق دریافت کیا تو آنحضرت نے یہ آیہ کریمہ پڑھی۔( درگزر کرنا اختیار کر نیکی کا حکم کر اور جاہلوں سے اعراض کر)۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا کے حسن اخلاق یہ ہے کہ تم سے جو توڑتا ہے تو اس کے ساتھ جوڑ جو تجھ کو محروم رکھتا ہے تو اس کو دو تم سے جو زیادتی کرے تم اس کو معاف کرو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے مجھے رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تاکہ میں مکارم اخلاق کی تکمیل کر دوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روز قیامت میزان میں سے زیادہ وزن والی چیز رکھی جانے والی اللہ سے خوف کھانا اور حسن اخلاق ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آنجناب کے سامنے کی جانب سے ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ دین کیا ہے ان کے جواب میں ارشاد فرمایا حسن اخلاق ازاں بعد دائیں طرف سے آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ دین کیا ہے آنحضرت نے فرمایا حسن اخلاق۔ پھر اس کے بعد وہ بائیں طرف سے حاضر ہوا اور عرض کیا کہ دین کیا ہے آنحضرت نے فرمایا حسن اخلاق۔ پھر وہ پچھلی جانب سے آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ دین کیا ہے آپ نے اس کی جانب دھیان کیا اور ارشاد فرمایا کیا تجھے سمجھ نہیں ہے کہ دین کیا ہے دین یہ ہے کہ تو غصہ میں نہ آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا یارسول اللہ بدبختی کیا ہوتی ہے آپ نے فرمایا بداخلاقی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

%d bloggers like this: